• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، يونيو 15

کیا کسی عورت کو بغیر کسی وجھ کے طلاق دی جا سکتی ھے ۔اگر کوی طلاق دے دے تو شریعت اس بارے میں کیا کہتی ھے ۔

کیا کسی عورت کو بغیر کسی وجھ کے طلاق دی جا سکتی ھے ۔اگر کوی طلاق دے دے تو شریعت اس بارے میں کیا کہتی ھے ۔ 

مثلا گھر کی معمولی سی بات پر جیسا کے ۔ یہ کام نھیں کرتی ۔ برتن نھیں دھوتی دیر سے اٹھتی ھے وغیرہ وغیرہ ۔
اس کے علاوہ وٹہ سٹہ کی شادی میں ایک گھر یا ایک میاں بیوی میں بلکل بے قصور ھوتے ھیں ۔ پھر بھی میاں بغیر کسی وجہ کے بیوی کو طلاق دے دیتا ھے ۔
وٹہ سٹہ نہ بھی ھو ایک شادی کو عرصہ گزر گیا ھو ۔ بعد میں دوسری شادی کی گئ ھو ۔ پھر ایک گھر میں لڑائ ھو ۔ اور ایک لڑکی کو بغیر کسی وجہ کے طلاق مل جاے ۔ 

الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب

 آج تک ہمارے علم میں کوئی ایسا کیس نہیں آیا کہ کسی نے اپنی بیوی کو بلا وجہ طلاق دی ہو.
جتنی صورتیں آپ نے ذکر کی ہیں ان سب میں کوئی نہ کوئی وجہ موجود ہے ۔
لہذا بلا وجہ والا سوال ہی غلط ٹھہرا
خوب سمجھ لیں 


 
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق