• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأحد، فبراير 17

تکبیرات عیدین کے ساتھ رفع الیدین کرنے کی کیا دلیل ہے ؟

کیا تکبیرات عیدین کے ساتھ رفع الیدین کرنا رسول اللہ سے ثابت ہے ؟


جواب: تکبیرات عیدین کے ساتھ رفع الیدین کرنے کی کیا دلیل ہے ؟

جی ہاں تکبیرات عیدین کے ساتھ رفع الیدین کرنا نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ وَهُمَا كَذَلِكَ فَيَرْكَعُ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى تَكُونَ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ
سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب رفع الیدین فی الصلاۃ ح 722
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رفع الیدین فرماتے حتى کہ آپکے ہاتھ آپکے کندھوں کے برابر ہو جاتے پھر آپ تکبیر کہہ کر اسی طرح ہاتھ اٹھاتے اور رکوع فرماتے پھر جب اپنی کمر رکوع سے اٹھاتے تو ہاتھوں کو بلند کرتے حتى کہ کندھوں کے برابر ہو جاتے پھر کہتے سمع اللہ لمن حمدہ اور سجدوں کے درمیان آپ رفع الیدین نہ فرماتے تھے اور رکوع سے قبل والی ہر تکبیر میں رفع الیدین کرتے حتى کہ نماز مکمل ہو جاتی ۔

اس حدیث سے تکبیرات عیدین کے ساتھ رفع الیدین ثابت ہو رہا ہے کیونکہ تکبیرا ت عیدین بھی رکوع سے پہلے ہی ہیں ۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں کہ رکوع سے پہلے والی ہر تکبیر کے ساتھ آپ رفع الیدین فرمایا کرتے تھے ۔
خوب سمجھ لیں ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق