جمہوریت کے بارہ میں تو شک نہیں کہ وہ طاغوتی نظام ہے ۔ لیکن اگر کوئی شخص بغرض اصلاح اس میں شامل ہو جاتا ہے کہ میں پارلیمنٹ اور اسمبلی میں پہنچ کر اسلام مخالف قوانین کی مخالفت کروں گا تو کیا ایسا شخص بھی کافر ہو جائے گا ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
نہیں ‘ ہر گز نہیں !
ایسے شخص کہ نہ تو معینا تکفیر ہو سکتی ہے اور نہ مطلقا !
کیونکہ اسکی نیت اصلاح کی ہے ۔ اور یہ اس کفریہ طاغوتی نظام کو ختم کرنے کے لیے ایک حکمت عملی وضع کر رہا ہے ۔
ہاں ہم یہ ضرور کہیں گے کہ اسکا ایسا کرنا قطعا درست نہیں ہے ۔ گوکہ اسکی نیت خیر کی ہے مگر خیر کے حصول کے لیے یہ جس دروازے سے داخل ہوا ہے ‘ وہ دروازہ شر کا دروازہ ہے اور وہاں سے خیر کا حصول ناممکن ہے ۔ لہذا اسے فورا ایسے کام سے باز آجانا چاہیے ۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
نہیں ‘ ہر گز نہیں !
ایسے شخص کہ نہ تو معینا تکفیر ہو سکتی ہے اور نہ مطلقا !
کیونکہ اسکی نیت اصلاح کی ہے ۔ اور یہ اس کفریہ طاغوتی نظام کو ختم کرنے کے لیے ایک حکمت عملی وضع کر رہا ہے ۔
ہاں ہم یہ ضرور کہیں گے کہ اسکا ایسا کرنا قطعا درست نہیں ہے ۔ گوکہ اسکی نیت خیر کی ہے مگر خیر کے حصول کے لیے یہ جس دروازے سے داخل ہوا ہے ‘ وہ دروازہ شر کا دروازہ ہے اور وہاں سے خیر کا حصول ناممکن ہے ۔ لہذا اسے فورا ایسے کام سے باز آجانا چاہیے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق