وراثت کے بارے میں آپ سے یہ سوال ھے کہ چار بھائ ھیں ان میں سے ایک کی اولاد نہیں تو کیا وہ بھائ اپنی جائیداد آپنی زندگی میں ھی کسی ایک بھای کے نام کروا سکتا ھے اس لئیے کہ دوسرے بھائیوں کی نسبت اس سے زیادہ پیار کرتا ھے
2۔۔ایک بھائ کی اولاد بھی ھے وہ پاکستان سے باھر دوسرے ملک رھتا ھے وہ اپنی جائیداد باقی بہن بھائیوں کو چھوڑ کر کسی ایک کے نام کروا سکتا ھے کہ میرے بچوں نے تو پاکستان آنا نہیں اور نہ ھی ان کو ضرورت ھے
3۔ ۔ماں باپ نے مرنے سے پہلے بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا سب مکان بیٹوں کے نام لگا دئیے اب بیٹئیاں اس لئیے ماں باپ کو معاف کر دیں کہ اللہ تعالی ان کو گناہ نہ دے کیا اس کی اسلام میں گنجائش ھے یا بھای بہنوں کو اس میں سے حصہ دیں
4۔اور جو جائیداد ماں باپ کے مرنے کے بعد بیٹئیوں کے نام لگ گئی بھای بہنوں کو نہ دیں بہنیں مانگتی ھیں تو بھائ ناراض ھوتے ھیں ان بہنوں کو صرف اس مجبوری میں کہ بھائ ناراض ھو جائیں گے معاف کردیں تو معاف ھو جاے گی
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال ومنه الصدق الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
2۔۔ایک بھائ کی اولاد بھی ھے وہ پاکستان سے باھر دوسرے ملک رھتا ھے وہ اپنی جائیداد باقی بہن بھائیوں کو چھوڑ کر کسی ایک کے نام کروا سکتا ھے کہ میرے بچوں نے تو پاکستان آنا نہیں اور نہ ھی ان کو ضرورت ھے
3۔ ۔ماں باپ نے مرنے سے پہلے بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا سب مکان بیٹوں کے نام لگا دئیے اب بیٹئیاں اس لئیے ماں باپ کو معاف کر دیں کہ اللہ تعالی ان کو گناہ نہ دے کیا اس کی اسلام میں گنجائش ھے یا بھای بہنوں کو اس میں سے حصہ دیں
4۔اور جو جائیداد ماں باپ کے مرنے کے بعد بیٹئیوں کے نام لگ گئی بھای بہنوں کو نہ دیں بہنیں مانگتی ھیں تو بھائ ناراض ھوتے ھیں ان بہنوں کو صرف اس مجبوری میں کہ بھائ ناراض ھو جائیں گے معاف کردیں تو معاف ھو جاے گی
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال ومنه الصدق الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
۱۔ زیادہ سے زیادہ ایک تہائی حصہ ہبہ کر سکتا ہے ۔ لیکن وصیت نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ وارث کے حق میں وصیت کرنا شرعا ممنوع ہے (سنن ابی داود :۲۸۷۰)
۲۔ اگر پاکستان میں موجود اسکی جائیداد اسکی جائیداد کا ایک تہائی یا اس سے کم ہے تو ایسا کر سکتا ہے ۔ (صحیح بخاری : ۲۷۴۲) ۳۔ اگر بیٹیاں دل کی خوشی سے معاف کر دیں تو والدین کو معافی مل جائے گی , لیکن اصل اور درست طریقہ یہی ہے کہ مرنے والوں کے بیٹے اپنی بہنوں کو انکا مقرر کر دہ حصہ دیں ۔ ۴۔ بھائیوں کے ناراض ہونے کے ڈر سے معاف کرنا , در حقیقت معاف کرنا نہیں ہوتا ! ۔ ایسی صورت میں بھائی اگر اپنی بہنوں کو انکا مقرر کردہ حصہ نہ دیں تو وہ حرام خور ہیں (مسند احمد : ۲۰۵۷۷) |
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق