• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الثلاثاء، أبريل 16

دھمکی کے ارداہ سے ایسے کلمات کا استعمال کرنا جو عموما طلاق کے لیے بطور کنایہ استعمال ہوتے ہیں


سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارہ میں کہ : میں نے غصہ میں دھمکی کے ارادہ سے اپنی بیوی کو مخاطب ہو کر کہا " پہلی بات یہ ہے کہ جب آپ کے والدین  سلاروین تھے تو آپ نے مجھے بلانا ہی نہیں تھا اب آپکا سامان پڑا ہے دو دن میں اٹھا لینا , نہیں تو میں کمرے سے باہر نکال  دوں گا , میری طرف سے فیصلہ ختم ہو گیا , میری طرف سے اب آپ میری بیوی نہیں رہی اور طلاق لینے کے لیے پہلے حق مہر پر سائن کروا کے لے آنا طلاق پیپر پر میں سائن کر دوں گا ۔ نہیں تو پھر میری طرف سے وہاں میرے نکاح میں بیٹھی رہو " ۔ کیا اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
صورت مسئولہ میں طلاق کے لیے صریح الفاظ تو استعمال نہیں کیے گئے لیکن کلمات "فیصلہ" اور " میری بیوی نہیں رہی " عرف عام میں طلاق ہی کے معنوں میں مستعمل ہیں ۔لیکن اسکے متصل بعد کلمات  "طلاق لینے کے لیے حق مہر پر .... الخ " اور " میرے نکاح میں بیٹھی رہو " سے دو باتیں سمجھ آ سکتی ہیں ایک تو یہ کہ تحریری طلاق کے لیے یہ شرط ہے , اور دوسرا یہ کہ سابقہ کلمات میں طلاق مقصود نہیں محض تہدید اور ڈرانا ہی مقصود ہے ۔
ایسی ذو معنیین کلام میں جب الفاظ بھی صریح نہ ہوں متکلم کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے ۔ اور متکلم کا کہنا ہے کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی بلکہ صرف ڈرانا مقصود تھا ۔ اگر واقعتا ایسا ہی ہے تو صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی , بلکہ نکاح قائم ہے ۔ اور اگر حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ اس وقت متکلم کی نیت طلاق ہی کی تھی اور صرف تحریری طلاق کے لیے اس نے یہ شرائط عائد کی تھیں تو پھر ایک رجعی طلاق واقع ہو چکی ہے اور دوران عدت خاوند کو رجوع کا اختیار ہے ۔  وہ چاہے تو رجوع کر کے گھر بسا سکتا ہے ۔ اور لڑکی یا اسکے اولیاء رجوع میں حائل یا رکاوٹ نہیں بن سکتے کیونکہ اللہ تعالى کا فرمان ہے :
وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا (البقرة : 228)
اور انکے خاوند اس (عدت کے ) دوران رجوع کا زیادہ حق رکھتے ہیں , اگر انکی اصلاح کی نیت ہو ۔
اور طلاق یافتہ عورتوں کی عدت اللہ تعالى نے تین حیض مقرر فرمائی ہے :
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ (البقرة : 228)
اور طلاق یافتہ عورتیں تین حیض تک انتظار کریں  ۔

ہذا ما عندی واللہ تعالی أعلم وعلمہ أکمل وأتم ورد العلم إلیہ أسلم والشکر والدعا لمن نبہ وأرشد وقوم
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق