• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

السبت، مايو 25

پرانی بوسیدہ مسجد جو کہ تقریبا گر چکی ہے کیا ہم پرانی مسجد کو نئی جگہ منتقل کر سکتے ہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارہ میں کہ : پرانی بوسیدہ مسجد جو کہ تقریبا گر چکی ہے کیا ہم پرانی مسجد کو نئی جگہ منتقل کر سکتے ہیں؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

اللہ رب العالمین کا فرمان ذی شان ہے :
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ (التوبة :18)
یقینا اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائیں , نماز قائم کریں , زکاۃ ادا کریں , اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں , تو یقینا یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔
نیز فرمایا :
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ( البقرة: 114)
بھلا اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جس نے اللہ کی مساجد میں اللہ کا نام ذکر کرنے سے روکا اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کی , یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کے لیے ان میں داخل ہونا جائز ہی نہیں ہے الا کہ وہ (اللہ سے ) ڈرتے ہوئے (داخل ہوں) انکے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے ۔
 ان آیات بینات سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد کی آباد کاری اللہ تعالى کو مطلوب ومقصود ہے اور انکی ویرانی اللہ کو ناپسند ہے ۔ لہذا مساجد ایسی جگہ بنائی جائیں جہاں انہیں آباد رکھا جاسکے اور اللہ کا ذکر ان میں کیا جاسکے ۔ اور اگر کبھی آبادی  یا مکینوں کے منتقل ہونے کی بناء پر کوئی مسجد ویران و بے آباد ہو رہی ہو تو اسے دوسری جگہ بھی منتقل کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ اصل مقصود مساجد کی آباد کاری ہے ۔
اسی بناء پر سیدنا عمر بن خطاب t نے اپنے دور خلافت میں ایک مسجد جو کہ آبادی سے دور تھی اسے مارکیٹ کے قریب منتقل فرما دیا تھا ۔ (فتاوى ابن تیمیہ)



ہذا ما عندی واللہ تعالی أعلم وعلمہ أکمل وأتم ورد العلم إلیہ أسلم والشکر والدعا لمن نبہ وأرشد وقوم
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق