• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

السبت، مايو 25

رخصتی سے قبل ہی موبائل میسج کے ذریعہ تین طلاقیں بیک وقت لکھ بھیجیں , کیا اب انکے لیے رجوع کا کوئی امکان ہے ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارہ میں کہ : وقاص اظہر کا نکاح سدرہ مظہر سے ہوا , اور اس نے  رخصتی سے قبل ہی موبائل میسج کے ذریعہ تین طلاقیں بیک وقت لکھ بھیجیں , کیا اب انکے لیے رجوع کا کوئی امکان ہے ؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

اللہ رب العالمین کا فرمان ذی شان ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا (الأحزاب:49)
اے اہل ایمان جب تم مؤمنہ عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں چھونے سے قبل ہی طلاق دے دو تو تمہاری خاطر انکے ذمہ کوئی عدت نہیں ہے , لہذا انہیں فائدہ پہنچاؤ اور اچھے طریقے سے چھوڑ دو ۔
اس آیت کریمہ کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ رخصتی سے قبل دی گئی طلاق فورا واقع ہو جاتی ہے اور اسکے بعد رجوع کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا ۔ ہاں اگر دونوں دوبارہ صلح کرنا چاہیں تو انہیں نیا نکاح کروانا پڑے گا ۔
یاد رہے کہ رخصتی سے قبل اگر طلاق دے دی جائے تو اس مرد پر لازم ہے کہ مقرر کردہ حق مہر میں سے آدھا مہر عورت کو ادا کرے ۔ ارشاد باری تعالى  ہے :
وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (البقرة :237)
اور اگر تم انہیں رخصتی سے قبل ہی طلاق دے دو اور انکے لیے تم نے حق مہر مقرر کر رکھا ہو تو آدھا حق مہر ادا کرنا ہوگا , الا کہ وہ عورتیں (حق مہر ) معاف کر دیں یا وہ شخص معاف کر دے جسکے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے (یعنی عورتوں کے اولیاء ) لیکن اگر تم معاف کر دو (یعنی آدھے کے بجائے پورا ہی ادا کر دو ) تو یہ تقوى کے زیادہ قریب ہے ۔ اور آپس کی فضیلت کو نہ بھولو (یعنی مردوں کو اللہ نے عورتوں پر فضیلت دی ہے لہذا مرد آدھا حق مہر معاف کروانے کی بجائے پورا ہی دینے کی کوشش کرے ) یقینا اللہ تعالى تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے ۔
رہی ایک  ہی میسج میں تین بار طلاق لکھ دینے کی بات , تو ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں ۔ ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک شمار کرنا رسول اللہﷺ  ، ابوبکرt، اورعمر فاروق  کی خلافت کے ابتدائی دوسالوں تک چلتا رہا پھر جناب عمر نے ایک مجلس کی تین طلاقوں پر تین کا حکم لگا دیا تھا جیساکہ عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ:(کان الطلاق علی عہد رسول اللہﷺ  وأبی بکر t وسنتین من خلافت عمرt طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمر بن الخطاب t إن الناس قد استعجلوا فی أمر کانت لہم فیہ أناۃ فلو أمضیناہ علیہم فأمضاہ علیہم
[مسلم کتاب الطلاق باب طلاق الثلاث (1472)]
    رسول اللہﷺ  ،ابوبکر tاور عمرفاروقtکی خلافت کے ابتدئی دوسالوں میں اکٹھی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا پھر سیدنا عمر بن خطاب t نے فرمایا جس کام میں لوگوں کے لیے سوچ بیچار کا موقع تھا اس میں انہوں نے جلدی شروع کردی ہے تو ہم ان پر تینوں ہی لازم کردیتے ہیں لہذا انہوں نے تینوں ہی لازم کردیں۔
    یادرہے کہ سیدنا عمر فاروق t کا یہ فیصلہ سیاسی اور تہدیدی تھا جیساکہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار 6/511،جامع الرموز1/506،مجمع الأنہر شرح ملتقی الأبحر میں بھی لکھا ہے کہ:واعلم أنَّ فی الصدر الأول إذا أرسل الثلاث جملۃ لم یحکم إلا بوقوع واحدۃ إلی زمن عمر ثم حکم بوقوع الثلاث لکثرتہ بین الناس تہدیدًا
    ترجمہ:اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر عمرtدور خلافت تک جب اکٹھی تین طلاقیں بھیجی جاتیں تو ان پر ایک طلاق کا حکم لگایا جاتا پھر جب یہ عادت لوگوں میں زیادہ ہوگئی تو پھر تہدیدی طور پر تین طلاقوں کا حکم لگا دیا گیا ۔
    فقہ حنفی کی محولہ کتب کی اس صراحت سے یہ بات ظاہر ہو گئی ہے کہ سیدنا عمر t کا فیصلہ سیاسی اور تہدیدی تھا ۔جبکہ رسول اللہﷺ  کا فیصلہ شرعی اور حتمی ہے ۔لہذا ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق کا حکم رکھتی ہیں ۔
    مگر بعض لوگوں نے آجکل حلالہ کا طریقہ رائج کر رکھا ہے کہ ایک مرد کے ساتھ عورت کانکاح مدت مقررہ تک کے لیے کر دیا جاتا ہے پھر وہ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور پھر پہلا خاوند اس سے دوبارہ نکاح کر لیتا ہے ۔ یہ قطعاً جائز نہیں ہے بلکہ رسول اللہﷺ  نے لعنت فرمائی ہے :[لعن اللہ المُحَلِّل والمُحَلَّل لہ ] حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے ان دونوں اللہ کی لعنت ہو۔
[أبوداود کتاب النکاح باب فی التحلیل (2076)،ترمذی أبواب النکاح باب ماجاء فی المحل والمحلل لہ (1119) ]
    لغت حدیث کی معروف کتاب النہایة فی غریب الأثر والحدیث لابن أثیر1/431میں حلالہ کی تعریف یوں کی گئی ہے (ہو أن یطلق رجل امرأتہ ثلاثا فیتزوجہا رجل آخر علی شریطۃ أن یطلقہا بعد وطئہا لتحل لزوجہا الأول) وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس عورت کے ساتھ دوسرا آدمی اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اس عورت سے جماع کرنے کے بعد اس کو طلاق دے دے گا تاکہ وہ عورت پہلے خاوند کے لے حلال ہوجائے۔
    احناف کی فقہی اصطلاح پر لکھی گئی کتاب القاموس الفقہی کے صفحہ 100 پر مُحَلِّل (حلالہ کرنےوالا)کی یہ تعریف درج ہے:المُحَلِّلُ:ہو المتزوج ثلاثا لتحل للزوج الأوّل وفی الحدیث الشریف لعن اللہ المحلِّل والمحلَّل لہ
(ترجمہ)محلِّل سے مراد وہ آدمی ہے جو تین دفعہ طلاق شدہ عورت سے شادی کرتا ہے تاکہ اس عورت کو پہلے خاوند کے لیے حلال کر دے اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے دونوں پر لعنت کرے ۔لہذا حلالہ کا مروجہ طریقہ کار بالکل حرام ہے ۔



ہذا ما عندی واللہ تعالی أعلم وعلمہ أکمل وأتم ورد العلم إلیہ أسلم والشکر والدعا لمن نبہ وأرشد وقوم
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق