• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأربعاء، فبراير 18

دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور جلسہ استراحت کی حالت میں، دونوں ہاتهوں کو رانوں پر رکهنے کی کیا کوئی خالص دلیل موجود ہے؟


دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور جلسہ استراحت کی حالت میں، دونوں ہاتهوں کو رانوں پر رکهنے کی کیا کوئی خالص دلیل موجود ہے؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

عموم سے ہی استدلال کرتے ہیں۔
صحیح مسلم میں ہے :
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ يَدْعُو وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ وَوَضَعَ إِبْهَامَهُ عَلَى إِصْبَعِهِ الْوُسْطَى وَيُلْقِمُ كَفَّهُ الْيُسْرَى رُكْبَتَهُ
صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ باب صفۃ الجلوس فی الصلاۃ وکیفیۃ وضع الیدین ح ۵۷۹
اور مسند احمد میں ہے :
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رَاشِدٍ أَبِي سَعْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ فَدَعَا وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ مسند أحمد ح ۱۴۹۴۵
اس حدیث میں " إذا قعد یدعو " اور " إذا جلس فدعا " کے الفاظ عام ہیں اور اس عموم میں وہ تمام تر قعدے شامل ہیں جن میں دعاء کی جاتی ہے اور اسکے تحت قعدہء تشہد بھی آتا ہے اور قعدہ بین السجدتین بھی !
یاد رہے کہ حدیث :
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَعَقَدَ ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ
صحیح مسلم ح ۵۸۰

اور اس طرح کی دیگر احادیث مقدم الذکراحادیث کے عموم کو تشہد کے ساتھ خاص نہیں کرتیں , جسطرح کہ حدیث :
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَنَصَبَ إِصْبَعَهُ
سنن دارمی کتاب الصلاۃ باب الإشارۃ فی التشہد ح ۱۳۳۹

اور اسطرح کی دیگر احادیث ثانی الذکر احادیث میں تشہد کے عموم کو آخری تشہد کے ساتھ خاص نہیں کرتی ۔
کیونکہ ان میں اسی عام کے ایک فرد کا بیان ہیں , اور عام کے افراد میں سے کسی ایک فرد کا ذکر اس عام کے عموم کو ختم نہیں کرتا
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق