• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأربعاء، فبراير 18

مسافر مقتدی امام کے ساتھ ایک رکعت پا لے تو وہ قصر کرے یا مکمل نماز ادا کرے ؟

مسافر جب مقیم امام کی اقتداء کرے، اگر وہ نماز ظہر ہے، مسافر نے آخری رکعت پائی،امام کے سلام پهیرنے کے بعد وہ کتنی رکعتین مزید پڑهے گا؟ کیونکہ اس پر حالت سفر میں صرف دو رکعتیں فرض تهیں اور اب وہ امام کی اقتداء سے نکل گیا ہے.
وہ دو رکعتیں پوری کریگا یا کہ مقیم امام کے ماموم ہونے کی بنا پراس پر چار رکعتیں لاگو ہیں؟
برائے مہربانی جواب قرآن و سنت کی روشنی میں مرحمت فرما کر اجر عظیم حاصل کریں. 
جزاكم الله خيرًا
سائل : أبو عثمان شوکت اقبال

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

چار رکعتیں ہی پڑھے گا
عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِنَّا إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: " تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مسند أحمد ط الرسالۃ جـ 3 صـ 375 حـ 1862 
موسى بن عقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ میں تھے تو میں ںے ان سے پوچھا کہ جب ہم امام کے ساتھ ہوتے ہیں تو ہمیں چار رکعتیں پڑھنا پڑتی ہیں اور جب ہم اپنے خیموں میں ہوتے ہیں تو پھر صرف دو رکعتیں ۔ تو انہوں نے فرمایا " یہ ابو القاسم صلى اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔
یہ حسن لذاتہ روایت ہے
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق