جرابوں یا موزوں پر مسح کی مدت کب سے شروع ہوگی ؟
وضوء ٹوٹنے کے بعد سے مسح کی مدت شروع ہو جائے گی.
مثلا اگر کسی نے فجر کے وقت وضوء کیا پاؤں دھو کر جرابیں پہن لیں , اور مغرب تک اسکا فجر والا وضوء قائم رہا مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد۔ اسکا وضوء ٹوٹ گیا تو اب وہ عشاء فجر ظہر عصر اور پھر مغرب کی نماز کے لیے مسح کر سکتا ہے ۔
اور اگر کسی شخص نے فجر کی نماز کے لیے اسی طرح پاؤں دھو کر وضوء کیا اسکے بعد اسکا وضوء ٹوٹ گیا اس نے ظہر عصر مغرب کی نماز ادا بروقت ادا نہیں کی ۔ عشاء کے وقت اس نے وضوء کیا جرابوں پر مسح کیا اور نمازیں ادا کر لیں ایسا شخص اسکے بعد فجر کی نماز کے لیے تو جرابوں پر مسح کر سکتا ہے ۔ ظہر کے لیے نہیں ۔
قصہ مختصر کہ جرابوں یا موزوں پر مسح کی مدت کا آغاز وضوء کے ٹوٹنے سے شروع ہوتا ہے نہ مسح کرنے سے اور نہ ہی جرابیں پہننے سے !
خوب سمجھ لیں
سائل : احتشام ۔ اسلام آباد
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
مثلا اگر کسی نے فجر کے وقت وضوء کیا پاؤں دھو کر جرابیں پہن لیں , اور مغرب تک اسکا فجر والا وضوء قائم رہا مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد۔ اسکا وضوء ٹوٹ گیا تو اب وہ عشاء فجر ظہر عصر اور پھر مغرب کی نماز کے لیے مسح کر سکتا ہے ۔
اور اگر کسی شخص نے فجر کی نماز کے لیے اسی طرح پاؤں دھو کر وضوء کیا اسکے بعد اسکا وضوء ٹوٹ گیا اس نے ظہر عصر مغرب کی نماز ادا بروقت ادا نہیں کی ۔ عشاء کے وقت اس نے وضوء کیا جرابوں پر مسح کیا اور نمازیں ادا کر لیں ایسا شخص اسکے بعد فجر کی نماز کے لیے تو جرابوں پر مسح کر سکتا ہے ۔ ظہر کے لیے نہیں ۔
قصہ مختصر کہ جرابوں یا موزوں پر مسح کی مدت کا آغاز وضوء کے ٹوٹنے سے شروع ہوتا ہے نہ مسح کرنے سے اور نہ ہی جرابیں پہننے سے !
خوب سمجھ لیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق