• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأحد، أبريل 22

اگر قرض موجودہ مال کے برابر ہو جائے تو زکاۃ ادا کرنا ہوگی ؟

اسلام علیکم

اس سوال کے جواب کی روشنی میں ذرا مزید رہنمائی کر دیجیے
؛
http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=25196
؛
نمبر ایک
اگر ایک شخص کے اوپر تین ہزار کا قرض ادا کرنا ہو
اور اس کے پاس تین ہزار مالیت کا سونا ہو اور اس کے علاوہ کوئی نقد رقم نہ ہو تو وہ شخص اس سونے پر زکوۃ نہیں دے گا؟
؛
نمبر دو
اگر ذیادہ زکوۃ دے دی جائے تو گناہ کا کام تو نہیں کہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حد سے بڑھ کر زکوۃ کی نیت سے رقم حق داروں میں تقسیم کی کیونکہ میں نے اکثر یہ روش دیکھی ہے کہ زکوۃ تو صرف 250 بنتی ہے لیکن لوگ احتیاطا" 300 دے دیتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟


 الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب




۱۔ سونا کم ازکم ساڑھے سات تولہ ہو تو اس پر زکوۃ بنتی ہے ۔ اس سے کم پر زکوۃ نہیں ہے ۔ اور چاندی ساڑھے باون تولہ ہو تو اس پر زکاۃ ہے اس سے کم پر زکاۃ نہیں ۔
اگر کسی شخص کے پاس نقدی اور زیورات وغیرہ سب ملا کر اسکے قرض کے برابر ہیں یا کم ہیں اور قرض زیادہ ہے یا زیادہ ہیں لیکن قرض کے سوا باقی رقم نصاب کو نہیں پہنچتی تو اس پر زکاۃ فرض نہیں ہے ۔
۲۔ ایسا کرنا درست ہے ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسکی اجازت دی ہے ۔ (سنن أبی داود کتاب الزکاۃ باب زکاۃ الصائمۃ ح ۱۵۶۷)

author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق