السلام علیکم
شیخ رفیق طاہر
آپ سے سوال یہ ہے کہ اگر بغیر کسی واسطہ یعنی ڈائریکٹ ناف کے نیچے اور گھٹنے سے اوپر کسی حصہ پر ہاتھ لگ جائے تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
بارک اللہ فیک
آدمی کے صرف اپنے "ذکر" یعنی آلہء تناسل کو چھونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے ۔ اور کسی جگہ کو چھونے سے نہیں ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
من مس ذکرہ فلیتوضأ
جس نے اپنے ذکر کو چھوا وہ وضوء کرے ۔
سنن أبی داود کتاب الطہارۃ باب الوضوء من مس الذکر ح 181
شیخ رفیق طاہر
آپ سے سوال یہ ہے کہ اگر بغیر کسی واسطہ یعنی ڈائریکٹ ناف کے نیچے اور گھٹنے سے اوپر کسی حصہ پر ہاتھ لگ جائے تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
بارک اللہ فیک
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
آدمی کے صرف اپنے "ذکر" یعنی آلہء تناسل کو چھونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے ۔ اور کسی جگہ کو چھونے سے نہیں ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
من مس ذکرہ فلیتوضأ
جس نے اپنے ذکر کو چھوا وہ وضوء کرے ۔
سنن أبی داود کتاب الطہارۃ باب الوضوء من مس الذکر ح 181
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق