کیا فقہ حنفی میں عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر سکتی ہے؟ علمائے کرام فقہ حنفی کی معتبر کتب سے دلائل دے کر وضاحت فرمائیں۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ دین کے مطابق عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کرسکتی , بلکہ شریعت اسلامیہ نے اس نکاح کو باطل قرار دیا ہے :
ایما امرأۃ نکحت بغیر اذن ولیہا فنکاحہا باطل باطل باطل (صحیح بخاری)
جو عورت بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اسکا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ۔
البتہ فقہ حنفی میں عاشقوں کے لیے کتاب وسنت سے بغاوت کا یہ سبق موجود ہے کہ عورت بغیر ولی جس آشنا کے ساتھ چاہے نکاح رچا لے :
فقہ حنفی کے معتبر ترین کتاب بلکہ جسے یہ قرآن کی طرح قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں " الهداية کالقرآن" اس کے کتاب النکاح باب في الأولياء والأكفاء میں لکھا ہے :
" وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى بكرا كانت أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف " رحمهما الله " في ظاهر الرواية
ظاہر روایت کے مطابق ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیک عقلمند بالغ آزاد کنواری یا شوہر دیدہ عورت کا نکاح اسی کی رضامندی سے ہی ہو جاتا ہے چاہے اسکا ولی اس پر راضی نہ بھی ہو۔

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق وا لصواب وإلیہ المرجع والمآب
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ دین کے مطابق عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کرسکتی , بلکہ شریعت اسلامیہ نے اس نکاح کو باطل قرار دیا ہے :
ایما امرأۃ نکحت بغیر اذن ولیہا فنکاحہا باطل باطل باطل (صحیح بخاری)
جو عورت بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اسکا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ۔
البتہ فقہ حنفی میں عاشقوں کے لیے کتاب وسنت سے بغاوت کا یہ سبق موجود ہے کہ عورت بغیر ولی جس آشنا کے ساتھ چاہے نکاح رچا لے :
فقہ حنفی کے معتبر ترین کتاب بلکہ جسے یہ قرآن کی طرح قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں " الهداية کالقرآن" اس کے کتاب النکاح باب في الأولياء والأكفاء میں لکھا ہے :
" وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى بكرا كانت أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف " رحمهما الله " في ظاهر الرواية
ظاہر روایت کے مطابق ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیک عقلمند بالغ آزاد کنواری یا شوہر دیدہ عورت کا نکاح اسی کی رضامندی سے ہی ہو جاتا ہے چاہے اسکا ولی اس پر راضی نہ بھی ہو۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق