• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأحد، أبريل 22

ایسی مجلس والوں کو سلام کرنا جس میں مسلمان اور مشرک سب شامل

اسلام  علیکم

بھای میں ایسی مجلس میں جاتا ہوں جہاں اسے (حنفی آتے ہیں جو امام بخاری رح شیخ الاسلام امام ابن تیمی ، شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رح پر سخت تعن کرتے ہیں) قادیانی،

مرتد ، شیعہ رافظی آتے ہیں ۔۔۔کیا ان کو سلام کیا کروں ۔۔اگر وہ سلام کریں تو ان کا جواب دیا کروں ۔۔۔۔دوسری بات کیا اسی مجلس جانا چاہیے مجھے

قران و حدیث اور سلف سالحین کے اقوال سے جواب دیں 

 


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 
آپ ایسی مجلس میں سلام کہہ کر داخل ہوں ۔ لیکن قادیانیوں وغیرہ کو سلام نہ کہیں ۔ اور اگر وہ سلام کہیں تو آپ انکا جواب دیں
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ جب وہ اسے ملے تو سلام کہے
اور غیر مسلموں کو آپ یہ کہہ کر سلام کہتے "السلام على من اتبع الہدى "
اور یہود ونصارى سے سلام میں پہل کرنے سے آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ۔
اور اگر ان میں سے کوئی آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم "وعلیکم" کہہ کر انکا جواب دیتے ۔


حدثنا إبراهيم بن موسى،‏‏‏‏ أخبرنا هشام،‏‏‏‏ عن معمر،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ عن عروة بن الزبير،‏‏‏‏ قال أخبرني أسامة بن زيد،‏‏‏‏ أن النبي صلى الله عليه وسلم ركب حمارا عليه إكاف،‏‏‏‏ تحته قطيفة فدكية،‏‏‏‏ وأردف وراءه أسامة بن زيد وهو يعود سعد بن عبادة في بني الحارث بن الخزرج،‏‏‏‏ وذلك قبل وقعة بدر حتى مر في مجلس فيه أخلاط من المسلمين والمشركين عبدة الأوثان واليهود،‏‏‏‏ وفيهم عبد الله بن أبى ابن سلول،‏‏‏‏ وفي المجلس عبد الله بن رواحة،‏‏‏‏ فلما غشيت المجلس عجاجة الدابة خمر عبد الله بن أبى أنفه بردائه ثم قال لا تغبروا علينا‏.‏ فسلم عليهم النبي صلى الله عليه وسلم ثم وقف فنزل،‏‏‏‏ فدعاهم إلى الله وقرأ عليهم القرآن فقال عبد الله بن أبى ابن سلول أيها المرء لا أحسن من هذا،‏‏‏‏ إن كان ما تقول حقا،‏‏‏‏ فلا تؤذنا في مجالسنا،‏‏‏‏ وارجع إلى رحلك،‏‏‏‏ فمن جاءك منا فاقصص عليه‏.‏ قال ابن رواحة اغشنا في مجالسنا،‏‏‏‏ فإنا نحب ذلك‏.‏ فاستب المسلمون والمشركون واليهود حتى هموا أن يتواثبوا،‏‏‏‏ فلم يزل النبي صلى الله عليه وسلم يخفضهم،‏‏‏‏ ثم ركب دابته حتى دخل على سعد بن عبادة فقال ‏"‏ أى سعد ألم تسمع ما قال أبو حباب ‏"‏‏.‏ يريد عبد الله بن أبى قال كذا وكذا قال اعف عنه يا رسول الله واصفح فوالله لقد أعطاك الله الذي أعطاك،‏‏‏‏ ولقد اصطلح أهل هذه البحرة على أن يتوجوه فيعصبونه بالعصابة،‏‏‏‏ فلما رد الله ذلك بالحق الذي أعطاك شرق بذلك،‏‏‏‏ فذلك فعل به ما رأيت،‏‏‏‏ فعفا عنه النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فد ک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اپنے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بٹھایا تھا۔ آپ بنی حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس پر سے گزرے جس میں مسلمان بت پرست مشرک اور یہودی سب ہی شریک تھے۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی ان میں تھا۔ مجلس میں عبداللہ بن رواحہ بھی موجود تھے۔ جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبداللہ نے اپنی چادر سے اپنی ناک چھپا لی اور کہا کہ ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور وہاں رک گئے اور اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کے لئے قرآن مجید کی تلاو ت کی۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بولا، میاں میں ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہوں اگر وہ چیز حق ہے جو تم کہتے ہو تو ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں تکلیف نہ دیا کرو۔ اس پر ابن رواحہ نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ پھر مسلمانوں مشرکوں اور یہودیوں میں اس بات پر تو تو میں میں ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ کوئی ارادہ کربیٹھیں اور ایک دوسرے پر حملہ کر دیں۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برابر خاموش کراتے رہے اور جب وہ خاموش ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھ کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، سعد تم نے نہیں سنا کہ ابو حباب نے آج کیا بات کہی ہے۔ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یہ یہ باتیں کہی ہیں۔ حضرت سعد نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے معاف کر دیجئیے اور درگزر فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ حق آپ کو عطا فرمایا ہے جو عطا فرمانا تھا۔ اس بستی (مدینہ منورہ) کے لوگ (آپ کی تشریف آوری سے پہلے) اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کر دیا جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو اسے حق سے حسد ہو گیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔

صحیح بخاری کتاب الاستئذان باب التسلیم فی مجلس فیہ أخلاط من المسلمین ح ۶۲۵۴

author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق