• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأحد، أبريل 29

کیا "ظہار" میں حرمت کا قصد ضروری ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

فضیلۃ الشیخ!

ایک آدمی اپنی بیوی سے مذاق کی حالت میں یوں کہ بیٹھا۔

"آہو ایڈی توں میری م۔۔"

ماں کا لفظ بھی پورا نہ کہا اور رک گیا کہ مبادا میں غلط بول رہا ہوں۔ مقصد حرمت نہ تھی بلکہ بیوی کی ہمدردی جتلانے پر یہ کہا کہ "ایسی تو میری ماں بننے والی" وغیرہ۔

کیا صرف الفاظ کی ادئیگی "ظہار" ہو گی؟ یا کہ ظہار واقع ہونے کے لیے حرمت کا قصد ضروری ہے؟

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ابو داؤد کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کہ رہا ہے کہ اے میری بہن! تو آپ صلی اللہ عیل وسلم نے فرمایا یہ تیری بہن ہے؟ غرض یہ کہنا برا لگا اسے روکا' مگر اس سے حرمت ثابت نہیں کی۔ کیونکہ دراصل اسکا مقصود یہ نہ تھا یونہی زبان سے بغیر قصد نکل گیا تھا ورنہ ضرور حرمت ثابت ہو جاتی۔

یہ مکمل حدیث اور اسکی صحت بھی نوٹ فرما دیں؟

مزید۔۔

موجودہ دور میں ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کا آسان سا حل کیا ہو سکتا ہے ؟ کیا کسی مدرسے کو پیسے دیے جا سکتے ہیں؟

جزاکم اللہ خیرا جزا۔ و بارک اللہ فی علمکم۔
 
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
 
 وعليکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

۱۔ اگر وہ اپني بيوي کو ماں کہہ بھي ديتا تو بھي اس ميں کوئي مضايقہ نہ تھا !
کيونکہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کا فرمان ہے "
إنما الأعمال بالنيات " يعني اعمال کا دار ومدار نيتوں پر ہے (صحيح بخاري ح ۱)
اور ابراہيم عليہ السلام نے بھي اپني بيوي کو بہن کہا تھا ۔ (سنن أبي داود ح ۲۲۱۲)
يعني ظہار کے ليے يہ ضروري ہے کہ وہ ايسے الفاظ کہتے ہوئے ظہار کي نيت کرے يا پھر واضح الفاظ ميں يہ کہے کہ تو مجھ پر ايسے حرام ہے جيسے ميري ماں يا بہن وغيرہ تو تب يہ ظہار ہوگا ‘ وگرنہ نہيں ۔

۲۔ آپ کي ذکر کردہ روايت سنن أبي داود کتاب الطلاق باب في الرجل يقول لامرأتہ يا أختي ح ۲۲۱۰ ميں بايں طور مروي ہے :
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ وَخَالِدٌ الطَّحَّانُ الْمَعْنَى كُلُّهُمْ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ يَا أُخَيَّةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْتُكَ هِيَ فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ
اور اسکي سند ضعيف ہے کيونکہ ابو تميمہ طريف بن مجالد الجہني تابعي ہيں لہذا يہ روايت مرسل ہونے کي وجہ سے ضعيف ہے ۔
اسکے بعد اسي باب ميں امام صاحب نے يہي روايت سند ومتن ميں کچھ تغير کے ساتھ بيان فرمائي ہے جس ميں ابو تميمہ کا شيخ کوئي مجہول آدمي ہے جسکا نام بھي ذکر نہيں ہے لہذا وہ سند بھي ضعيف ہے ۔
اور پھر اسکے بعد تيسرے نمبر پر ابراہيم عليہ السلام والي وہ روايت بسند صحيح نقل فرمائي ہے جسکا ميں حوالہ اوپر دے آيا ہوں اور اس بات کي طرف اشارہ فرمايا ہے کہ بيوي کو بہن کہنا منع بھي نہيں ہے اور نہ ہي اس پر کوئي خاص شرعي احکام مرتب ہوتے ہيں ۔

۳۔ اگر تو مدرسہ ميں کھانے والے سارے ہي مساکين ہيں تو پھر يہ حل ہو سکتا ہے وگرنہ نہيں ۔ اور ميرے علم کے مطابق کے مطابق سب سے آسان حل يہ ہے کہ کسي ايک مسکين کو ہي تلاش کرکے اسے ساٹھ مسکينوں کا کھانا دے ديا جائے ۔ خواہ يکمشت خواہ مختلف اوقات ميں ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق