اس حديث كى صحت دركار ھے
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول كان الكفل من بني إسرائيل لا يتورع من ذنب عمله فأتته امرأة فأعطاها ستين دينارا على أن يطأها فلما أرادها على نفسها ارتعدت وبكت فقال ما يبكيك قالت لأن هذا عمل ما عملته وما حملني عليه إلا الحاجة فقال تفعلين أنت هذا من مخافة الله فأنا أحرى اذهبي فلك ما أعطيتك ووالله ما أعصيه بعدها أبدا فمات من ليلته فأصبح مكتوب على بابه إن الله قد غفر للكفل فعجب الناس من ذلك
امام ترمزي نے اس حديث كو حسن اور امام حاكم نے صحيح كها ھے اور ذهبى نے انكى موافقت كى ھے... اسكى وضاحت كرديں
سنن الترمذي ح (2496) وقال: حديث حسن، ومستدرك الحاكم (4/254 ـ 255) وصححه ووافقه الذهبي
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
روایت ضعیف ہے ۔ کیونکہ اسکی سند میں "اعمش" نامی راوی مدلس ہے اور "عن" سے بیان کر رہا ہے ۔
امام ترمذی کے نزدیک حسن روایت وہ ہوتی ہے جسکی سندیں متعدد ہوں خواہ صحیح ہوں یا نہ ۔
اسی لیے اہل علم کہتے ہیں کہ
ترمذی کی " تحسین"
حاکم کی " تصحیح"
اور ابن حبان کی " توثیق"
کا کوئی اعتبار نہیں ۔
امام حاکم کی تصحیح بھی انکے تساہل کی وجہ سے ہے ۔ جسکے بارہ میں اہل علم کا قول میں پہلے نقل کر چکا ہوں ۔
امام ذہبی کا حاکم کی موافقت کرنا مبنی بر سہو ہے
کیونکہ اعمش کی تدلیس ایک قادح علت ہے ۔
اسی لیے اہل علم کہتے ہیں کہ
ترمذی کی " تحسین"
حاکم کی " تصحیح"
اور ابن حبان کی " توثیق"
کا کوئی اعتبار نہیں ۔
امام حاکم کی تصحیح بھی انکے تساہل کی وجہ سے ہے ۔ جسکے بارہ میں اہل علم کا قول میں پہلے نقل کر چکا ہوں ۔
امام ذہبی کا حاکم کی موافقت کرنا مبنی بر سہو ہے
کیونکہ اعمش کی تدلیس ایک قادح علت ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق