• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأحد، أبريل 29

کیا مسکرات (نشہ آور اشیاء ) کے استعمال سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

کیا نسوار، تمباکو والا پان، سگریٹ ان چیزوں کے کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا پھر مسواک اور کُلی کر لی جائے؟ کیوں کہ ان چیزوں کو نگلتے تو نہیں ہیں۔
اسی طرح کھانسی کے شربت ہیں جن میں ایفیڈرین یا کوئی اور نشہ آور چیز ہوتی ہے اسے پینے سے وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
قرآن و سنت سے رہنمائی فرمائیں۔ 


 الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب



مسکرات کا استعمال حرام ہے ۔ اور حالت سکر میں نماز کی ادائیگی بھی ممنوع ہے ۔
اللہ رب العالمین کا ارشاد گرامی ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( المائدة : 90)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ (النساء 43)

البتہ مسکرات کا استعمال ناقض وضوء نہیں ہے ۔ کیونکہ اس پر کوئی دلیل شرعی وارد نہیں ہوئی ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق