• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأحد، أبريل 22

کیا بھتیجے کے لیے وصیت کی جاسکتی ہے ؟

اللہ کے رسول کا ارشاد ہے:
"لا وصیۃ لوارث"ِِ

میرا سوال یہ ہے کہ بھتیجہ اس میں داخل ہے کیا؟؟؟ 


 الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
بھتیجہ بسا اوقات وارث بنتا ہے اور بسا اوقات نہیں ۔
جب بھتیجہ وارث نہ بن رہا ہو تو اسکے لیے وصیت کرنا جائز ہے اور جب وارث بن رہا ہو تو ناجائز ہے ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق