اللہ کے رسول کا ارشاد ہے:
"لا وصیۃ لوارث"ِِ
میرا سوال یہ ہے کہ بھتیجہ اس میں داخل ہے کیا؟؟؟
جب بھتیجہ وارث نہ بن رہا ہو تو اسکے لیے وصیت کرنا جائز ہے اور جب وارث بن رہا ہو تو ناجائز ہے ۔
"لا وصیۃ لوارث"ِِ
میرا سوال یہ ہے کہ بھتیجہ اس میں داخل ہے کیا؟؟؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
بھتیجہ بسا اوقات وارث بنتا ہے اور بسا اوقات نہیں ۔جب بھتیجہ وارث نہ بن رہا ہو تو اسکے لیے وصیت کرنا جائز ہے اور جب وارث بن رہا ہو تو ناجائز ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق