• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأحد، أبريل 22

نکاح میں کون کون لڑکی کا ولی بن سکتا ہے اور کس ترتیب سے؟

السلام علیکم۔

شیخ‌ محترم۔ نکاح میں‌لڑکی کا ولی کون کون بنے گا؟ یا کون کون لڑکی کا ولی بن سکتا ہے اور کس ترتیب سے؟ قرآن اور صحیح حدیث پر مبنی دلائل درکار ہیں۔



الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب


 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حدیث شریف میں ان رشتہ داروں کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۱۔ عاقلہ , ۲۔ عصبہ , ۳۔ اولیاء ۔
اور تینوں کا معنى ایک ہی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں :
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ امْرَأَةً قَتَلَتْ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأُتِيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى عَلَى عَاقِلَتِهَا بِالدِّيَةِ وَكَانَتْ حَامِلًا فَقَضَى فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ فَقَالَ بَعْضُ عَصَبَتِهَا أَنَدِي مَنْ لَا طَعِمَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ قَالَ فَقَالَ سَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ وَمُفَضَّلٍ و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِمْ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ فَأَسْقَطَتْ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَى أَوْلِيَاءِ الْمَرْأَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ دِيَةَ الْمَرْأَةِ
صحیح مسلم کتاب القسامۃ والمحاربین والدیات باب دیۃ الجنین ووجوب الدیۃ فی قتل الخطأ وشبہ ح ۱۶۸۲
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا ضَرَّتَيْنِ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأَلْقَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ وَجَعَلَهُ عَلَى عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ قَالَ الْحَسَنُ وَأَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ و قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
جامع الترمذی أبواب الدیات باب ما جاء فی دیۃ الجنین ح ۱۴۱۱
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ عَنْ الْمُغِيَرةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَقَالَ أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَزَادَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا قَالَ أَبُو دَاوُد وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحَكَمُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ
سنن أبی داود کتاب الدیات باب دیۃ الجنین ح ۴۵۶۸

اور لغت عرب میں عاقلہ یا عصبہ یا اولیاء کا معنى ہوتا ہے : بنوۃ , ابوۃ , اخوۃ , عمومت على الترتیب !

لہذا اولیاء میں بالترتیب عورت کی اولاد , آباء واجداد , بھائی اور اعمام شامل ہیں ۔ (۱)
اور جسکا کوئی ولی نہ ہو "سلطان" اسکا ولی ہوگا (۲)

_____________________

(۱) یہ رشتے کسی بھی انسان کے قریبی ترین ہوتے ہیں اور یہی ولایت کے زیادہ حقدار ہیں ۔ انکے اقرب ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ اور ان میں بھی جو زیادہ قریبی ہے وہ ولایت کا زیادہ حقدار ہے اور قریبی کی موجودگی میں دور والا ولی کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا ۔ وراثت میں بھی یہی اصول چلتا ہے اور اصطلاح میں انہیں عصبات کہا جاتا ہے ۔
(۲) سنن أبی داود کتاب النکاح باب فی الولی ح ۲۰۸۳
 

 
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق