ٹخنے سے شلوار کو پاجامہ کو یا دھوتی کو اوپر کرنے کے لئے موڑا جاتا ہے کیا یہ بھی کپڑے سمیٹنے کے زمرے میں آتا ہے۔
< جواب >
دھوتی یا شلوار کو
سمیٹ کر ٹخنوں سے اونچا کرنا یا نصف پنڈلی تک اٹھانا اس ممانعت میں شامل نہیں ہے !!
رہی دھوتی کی بات تو
وہ ہمیشہ اوپر سے سمیٹی ہی جاتی ہے ، اور اسکے بغیر اسکا باندھنا ممکن نہیں !!!!
اور جہاں تک شلوار
کا تعلق تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے عموم واطلاق کی بناء پر
اسکا جواز ملتا ہے ۔
عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَرَرْتُ
عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِزَارِي
اسْتِرْخَاءٌ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعْ إِزَارَكَ فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ
قَالَ زِدْ فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ أَتَحَرَّاهَا بَعْدُ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِلَى
أَيْنَ فَقَالَ أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ
سیدنا عبد اللہ بن
عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا
اورمیرا ازار لٹک رہا تھا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد اللہ اپنا
ازار بلند کر میں نے کیا پھر آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کر میں نے اور کیا
پھر میں ہمیشہ اسکا خیال رکھتا رہا قوم میں سے بعض نے پوچھا کہاں تک ؟ تو آپ نے
فرمایا نصف پنڈلی تک ۔
صحیح مسلم کتاب اللباس
والزینۃ باب تحریم جر الثوب خیلاء ۔۔۔۔ ح ۲۰۸۶
یاد رہے کہ یہ رخصت صرف
ان افراد کے لیے ہے جومسئلہ کا علم ہو جانے سے قبل اتنی لمبی شلواریں وغیرہ سلوا
چکے ہوں وہ وقتی طور پر ایسا کرسکتے ہیں جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے رسول
اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے کروایا ہے ۔
لیکن اسکے بعد بھی اگر
کوئی یہی وطیرہ اپنائے کہ شلواریں وغیرہ لمبی لمبی سلوائے اور بوقت نماز انہیں
ٹخنوں سے اونچا کر لیے تو یہ قطعا درست عمل نہیں ہے ۔!!
بلکہ جو شخص علم
ہونے سے قبل بھی ایسا کرچکا ہے تو وہ علم ہوجانے کے بعد شلواریں اونچی کروائے ۔
تاکہ کسی بھی صورت وہ ٹخنوں تک نہ پہنچنے پائیں۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق