جو شخص پانی میں ڈوب کر مرجائے یا جلا دیا جائے تو اس کا جسم ہی باقی نہ رہا توروح کیسے لوٹائی جائے گی ۔؟
پانی میں ڈوبنے کے بعد بھی جسم باقی رہتا ہے , ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ ڈوب جاتا ہے
اور جلنے کے بعد بھی جسم باقی رہتا ہے , ہاں یہ ضرور ہے کہ اسکی ہیئت وشکل بدل جاتی ہے اور وہ گوشت پوست اور ہڈی پسلی کے بجائے راکھ و کوئلہ بن جاتا ہے ۔
خوب سمجھ لیں ۔
اور روح کا ہی آپکو علم نہیں ہے کہ وہ کیا چیز ہے تو اسکے لوٹانے کی بھی آپکو سمجھ نہیں آسکتی کہ کیسے لوٹائی جائے گی ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ روح لوٹائی جاتی ہے ۔ لہذا ایک مؤمن کا ایمان ہونا چاہیے کہ لوٹائی جاتی ہے ۔ خواہ اسے سمجھ آئے یا نہ ۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
پانی میں ڈوبنے کے بعد بھی جسم باقی رہتا ہے , ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ ڈوب جاتا ہے
اور جلنے کے بعد بھی جسم باقی رہتا ہے , ہاں یہ ضرور ہے کہ اسکی ہیئت وشکل بدل جاتی ہے اور وہ گوشت پوست اور ہڈی پسلی کے بجائے راکھ و کوئلہ بن جاتا ہے ۔
خوب سمجھ لیں ۔
اور روح کا ہی آپکو علم نہیں ہے کہ وہ کیا چیز ہے تو اسکے لوٹانے کی بھی آپکو سمجھ نہیں آسکتی کہ کیسے لوٹائی جائے گی ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ روح لوٹائی جاتی ہے ۔ لہذا ایک مؤمن کا ایمان ہونا چاہیے کہ لوٹائی جاتی ہے ۔ خواہ اسے سمجھ آئے یا نہ ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق