• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، أبريل 20

جو شخص پانی میں ڈوب کر مرجائے یا جلا دیا جائے تو اس کا جسم ہی باقی نہ رہا توروح کیسے لوٹائی جائے گی ۔؟

جو شخص پانی میں ڈوب کر مرجائے یا جلا دیا جائے تو اس کا جسم ہی باقی نہ رہا توروح کیسے لوٹائی جائے گی ۔؟


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

 پانی میں ڈوبنے کے بعد بھی جسم باقی رہتا ہے , ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ ڈوب جاتا ہے
اور جلنے کے بعد بھی جسم باقی رہتا ہے , ہاں یہ ضرور ہے کہ اسکی ہیئت وشکل بدل جاتی ہے اور وہ گوشت پوست اور ہڈی پسلی کے بجائے راکھ و کوئلہ بن جاتا ہے ۔
خوب سمجھ لیں ۔

اور روح کا ہی آپکو علم نہیں ہے کہ وہ کیا چیز ہے تو اسکے لوٹانے کی بھی آپکو سمجھ نہیں آسکتی کہ کیسے لوٹائی جائے گی ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ روح لوٹائی جاتی ہے ۔ لہذا ایک مؤمن کا ایمان ہونا چاہیے کہ لوٹائی جاتی ہے ۔ خواہ اسے سمجھ آئے یا نہ ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق