السلام علیکم ۔
ایک سوال کسی نے پوچھا ہے مرنے کے بعد مومن کی روح کہاں رہتی ہے علیین میں یا قبر؟ حدیث کاحوالہ دے دیں تو بہترہے ۔ جزاک اللہ خیرا۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علیین کسی جگہ کا نام نہیں بلکہ وہ ایک رجسٹر کا نام ہے جس میں نیکوں کے نام لکھے جاتے ہیں اور سجین بھی ایک کتاب ہی ہے جس میں بد لوگوں کے نام وغیرہ کا اندارج کیا جاتا ہے
اللہ تعالى کے اس فرمان پر غور فرمائین :
كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ (7) وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ (8) كِتَابٌ مَرْقُومٌ (9) المطففين
ہر گز نہیں ! یقنا فجار کا لکھنا سجین میں ہے اور آپکو کس نے معلوم کروایا کہ سجین کیا ہے وہ تو ایک لکھی گئی کتاب ہے ۔
اور فرمايا :
كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ (18) وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ (19) كِتَابٌ مَرْقُومٌ (20) يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ (21) المطففين
ہرگز نہیں ! نیکوں کا لکھنا علیین میں ہے اور آپکو کس نے معلوم کروایا کہ کہ علییون کیا ہے وہ تو ایک لکھی گئی کتاب ہے جس پر مقرب ہی حاضر ہوتے ہیں ۔
اسی طرح رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے کا فرمان ہے :
حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ، [مسند احمد 17036]
حتى کہ نیک بندے کو ساتویں آسمان تک لے جایا جائے گا تو اللہ تعالى فرمائیں گے میرے بندے کا نامہ علیین میں لکھ دو ۔
نیز فرمایا :
فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى،[مسند احمد 17036]
(بد آدمی کے بارہ میں ) اللہ تعالى فرمائیں گے اسکا نامہ سجین میں لکھ دو جو کہ نچلی زمین میں ہے ۔
لہذا معلوم ہوا کہ علیین اور سجین کوئی مقام نہیں بلکہ " کتاب مرقوم" ہیں ۔ اور ان میں روحیں نہیں بلکہ "کتابت" کا عمل ہوتا ہے ۔
رہا سوال کہ روح کہاں رہتی ہے تو وہ بھی اسی حدیث میں موجود ہے :
فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ،[مسند احمد 17036]
تو اسکی روح اسکے جسم میں لوٹأ دی جاتی ہے ۔
پھر روح اسکے جسم میں ہی رہتی ہے کیونکہ نکلنے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔
ایک سوال کسی نے پوچھا ہے مرنے کے بعد مومن کی روح کہاں رہتی ہے علیین میں یا قبر؟ حدیث کاحوالہ دے دیں تو بہترہے ۔ جزاک اللہ خیرا۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علیین کسی جگہ کا نام نہیں بلکہ وہ ایک رجسٹر کا نام ہے جس میں نیکوں کے نام لکھے جاتے ہیں اور سجین بھی ایک کتاب ہی ہے جس میں بد لوگوں کے نام وغیرہ کا اندارج کیا جاتا ہے
اللہ تعالى کے اس فرمان پر غور فرمائین :
كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ (7) وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ (8) كِتَابٌ مَرْقُومٌ (9) المطففين
ہر گز نہیں ! یقنا فجار کا لکھنا سجین میں ہے اور آپکو کس نے معلوم کروایا کہ سجین کیا ہے وہ تو ایک لکھی گئی کتاب ہے ۔
اور فرمايا :
كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ (18) وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ (19) كِتَابٌ مَرْقُومٌ (20) يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ (21) المطففين
ہرگز نہیں ! نیکوں کا لکھنا علیین میں ہے اور آپکو کس نے معلوم کروایا کہ کہ علییون کیا ہے وہ تو ایک لکھی گئی کتاب ہے جس پر مقرب ہی حاضر ہوتے ہیں ۔
اسی طرح رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے کا فرمان ہے :
حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ، [مسند احمد 17036]
حتى کہ نیک بندے کو ساتویں آسمان تک لے جایا جائے گا تو اللہ تعالى فرمائیں گے میرے بندے کا نامہ علیین میں لکھ دو ۔
نیز فرمایا :
فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى،[مسند احمد 17036]
(بد آدمی کے بارہ میں ) اللہ تعالى فرمائیں گے اسکا نامہ سجین میں لکھ دو جو کہ نچلی زمین میں ہے ۔
لہذا معلوم ہوا کہ علیین اور سجین کوئی مقام نہیں بلکہ " کتاب مرقوم" ہیں ۔ اور ان میں روحیں نہیں بلکہ "کتابت" کا عمل ہوتا ہے ۔
رہا سوال کہ روح کہاں رہتی ہے تو وہ بھی اسی حدیث میں موجود ہے :
فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ،[مسند احمد 17036]
تو اسکی روح اسکے جسم میں لوٹأ دی جاتی ہے ۔
پھر روح اسکے جسم میں ہی رہتی ہے کیونکہ نکلنے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق