"ایک
عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس کے ہمراہ
اس کی بیٹی بھی تھی جس کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے۔ آپ نے اس سے
دریافت کیا کیا تو اس کی زکوٰہ دیتی ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں، آپ نے فرمایا:
"کیا تجھے یہ پسند ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے بدلے تمھیں آگ کے
دو کنگن پہنائے،" یہ سن کر اس خاتون نے دونوں کنگن پھینک دیے۔ [ابو داود،
الزکوٰۃ:1563"
کیا اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر سونا کنگن یا انگوٹھی وغیرہ کی شکل میں ہو تو ساڑھے سات تولہ سے کم پر بھی ذکواۃ لازم ہے ، ؟؟؟؟
اور اگر سونا ڈلی کی شکل میں ہوتو پھر ساڑھے سات تولہ ہونا ضروری ہے ؟
اور اگر یہ حدیث اس بات پر دلالت نہیں کرتی تو اس حدیث کا کیا مطلب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنگن پر ذکواۃ دینے کا کہا ؟
کیا وہ ساڑھے سات تولہ سے ذائد تھے ؟
دلیل ؟
براہ کرم اصلاح فرمائیں۔
یہ روایت ساڑھے سات تولہ سونا سے کم پر زکاۃ کے وجوب کو ثابت نہیں کرتی ۔
نصاب زکاۃ والی روایات کو سامنے رکھا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ
یا تو وہ نصاب سے زائد تھے
یا پھر زکاۃ نکالنے میں انہیں شامل کرنا مقصود تھا ۔
واللہ تعالى أعلم
کیا اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر سونا کنگن یا انگوٹھی وغیرہ کی شکل میں ہو تو ساڑھے سات تولہ سے کم پر بھی ذکواۃ لازم ہے ، ؟؟؟؟
اور اگر سونا ڈلی کی شکل میں ہوتو پھر ساڑھے سات تولہ ہونا ضروری ہے ؟
اور اگر یہ حدیث اس بات پر دلالت نہیں کرتی تو اس حدیث کا کیا مطلب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنگن پر ذکواۃ دینے کا کہا ؟
کیا وہ ساڑھے سات تولہ سے ذائد تھے ؟
دلیل ؟
براہ کرم اصلاح فرمائیں۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
یہ روایت ساڑھے سات تولہ سونا سے کم پر زکاۃ کے وجوب کو ثابت نہیں کرتی ۔
نصاب زکاۃ والی روایات کو سامنے رکھا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ
یا تو وہ نصاب سے زائد تھے
یا پھر زکاۃ نکالنے میں انہیں شامل کرنا مقصود تھا ۔
واللہ تعالى أعلم
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق