شیخ دونوں روایتوں ( صحیح بخاری:3093 اور صحیح بخاری سے ہی 4241 ) کو
پڑھنے کے بعد میں یہ سمجھا ہوں کہ باغِ فدک کا واقعہ حضرت ابوبکر صدیق رضی
اللہ عنہ کے ان الفاظ کا سبب بنا۔ اسے اگر خاص کر دیا جائے تو پھر یہ اشکال
پیدا ہوتا ہے کہ آیا باقی کام حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلافِ سنت
کرتے تھے۔
یہ اشکال ہر گز نہیں پیدا ہوتا ۔ جسطرح ان تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کا قول جنہوں نے نماز ادا کرنے سے قبل " ألا أصلى بکم صلاۃ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم " کے الفاظ کہے باقی کاموں میں سنت کی مخالفت کو مستلزم نہیں ہے ۔
البتہ یہ ایک الگ معاملہ ہے کہ اجتہادی خطأ یا بشری تقاضہ کی بناء پر ان سے کوئی فعل خلاف سنت سرزد ہو جائے ۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
یہ اشکال ہر گز نہیں پیدا ہوتا ۔ جسطرح ان تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کا قول جنہوں نے نماز ادا کرنے سے قبل " ألا أصلى بکم صلاۃ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم " کے الفاظ کہے باقی کاموں میں سنت کی مخالفت کو مستلزم نہیں ہے ۔
البتہ یہ ایک الگ معاملہ ہے کہ اجتہادی خطأ یا بشری تقاضہ کی بناء پر ان سے کوئی فعل خلاف سنت سرزد ہو جائے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق