شیخین رضی اللہ عنہما کا قربانی نہ کرنا قربانی کے عدم وجوب پر دلیل ہے ؟
سیدنا ابو سریحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ(سیدنا) ابوبکر (الصدیق) اور ( سیدنا ) عمر ( رضی اللہ عنھما) دونوں میرے پڑوسی تھے اور دونوں قربانی نہیں کرتے تھے۔
( معرفۃ السنن والآثار للبیہقی 7/198،ح5633 وسندہ حسن، وحسن النووی فی المجموع شرح المذہب8/383، وقال ابن کثیر فی مسند الفاروق 1/332: ’’وھذا اسناد صحیح‘‘)
(بحوالہ مقالات ج2 ،از حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ ،ص211)
سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر رضی اللہ عنھما سے اس خدشے کے پیشِ نظر قربانی چھوڑنا ثابت ہے کہ کہیں لوگ اس کو واجب نہ سمجھ لیں۔(السنن الکبریٰ للبیہقی9/265،وسندہ صحیح)
(بحوالہ ماہنامہ السنۃ جہلم نمبر2)
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
نہیں ! , ہر گز نہیں !!!
کیونکہ یہ ان دونوں اصحاب کا ذاتی فعل ہے , کہ جس پر وحی کی کسی طور بھی دلالت ثابت نہیں ہے ۔ اور غیر وحی دین میں حجت نہیں ہوتی ۔
رہا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ میں وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے تو وہ باغ فدک کے بارہ میں تھا جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں ۔
سیدنا ابو سریحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ(سیدنا) ابوبکر (الصدیق) اور ( سیدنا ) عمر ( رضی اللہ عنھما) دونوں میرے پڑوسی تھے اور دونوں قربانی نہیں کرتے تھے۔
( معرفۃ السنن والآثار للبیہقی 7/198،ح5633 وسندہ حسن، وحسن النووی فی المجموع شرح المذہب8/383، وقال ابن کثیر فی مسند الفاروق 1/332: ’’وھذا اسناد صحیح‘‘)
(بحوالہ مقالات ج2 ،از حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ ،ص211)
سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر رضی اللہ عنھما سے اس خدشے کے پیشِ نظر قربانی چھوڑنا ثابت ہے کہ کہیں لوگ اس کو واجب نہ سمجھ لیں۔(السنن الکبریٰ للبیہقی9/265،وسندہ صحیح)
(بحوالہ ماہنامہ السنۃ جہلم نمبر2)
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
نہیں ! , ہر گز نہیں !!!
کیونکہ یہ ان دونوں اصحاب کا ذاتی فعل ہے , کہ جس پر وحی کی کسی طور بھی دلالت ثابت نہیں ہے ۔ اور غیر وحی دین میں حجت نہیں ہوتی ۔
رہا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ میں وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے تو وہ باغ فدک کے بارہ میں تھا جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق