(صحیح بخاری:3093 )’’میں
کسی بھی ایسی چیز پر عمل نہیں چھوڑ سکتا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمل
کرتے تھے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں آپ کے قول و فعل میں سے کچھ بھی
چھوڑ دوں گا تو گمراہ ہو جاؤں گا۔‘‘
(صحیح بخاری:4241 )’’ میں اللہ کی قسم جو صدقہ حضور اکرم صلہ اللہ علیہ وسلم چھوڑ گئے ہیں میں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔جس حال میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں (اس کی تقسیم وغیرہ ) میں وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی زندگی میں تھا۔‘‘
اب آپ تخصیص واضح فرمادیں۔
یہ دونوں روایتیں ایک ہی ہیں اور یہ کلمات ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک ہی مجلس میں ایک ہی بار کہے ہیں ۔ رواۃ نے ان الفاظ کو بالمعنى ذکر کرتے ہوئے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ کسی نے اسے عام کر دیا تو کسی نے اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ کرکے اسے خاص کر دیا ہے ۔ اور اصول ہے کہ ثقہ کا اضافہ مقبول ہوتا ہے جب تک وہ ثقات کے منافی نہ ہو ۔
اور دوسری روایت کے الفاظ واضح طور پر پہلی روایت کے الفاظ کے لیے مخصص ہیں کہ انہوں نے یہ بات باغ فدک سے متعلق ہی کہی تھی ۔
اسکی مثال یوں سمجھیں کہ اللہ تعالى بڑی بڑی حرام چیزوں کا تذکرہ کرتے ہوئے خون کا نام لیا ہے قرآن میں مختلف مقامات پر جس سے ہر قسم کے خون کی حرمت نکلتی ہے کیونکہ لفظ دم عام ہے اس میں وہ خون بھی شامل ہو جاتا ہے جو جانور کے گوشت میں رچ چکا ہوتا ہے اور اگر آپ گوشت کو پانی میں تھوڑی دیر تک صرف بگھو کر ہی رکھ دیں تو خون کی رنگت پانی پر غالب ہو جاتی ہے
پھر اللہ تعالى نے ایک جگہ أو دما مسفوحا کہہ کر اس خون کی تخصیص کردی کہ خون ہر قسم کا حرام نہیں بلکہ صرف وہ خون حرام ہے جو بہہ جاتا ہے
لہذا جگر تلی وغیرہ جو کہ خالص خون ہیں وہ حرام نہیں کیونکہ وہ بہتے نہیں اسی طرح وہ خون جو گوشت میں رچ بس چکا ہوتا ہے اور بہتا نہیں ہے اس میں کوئی حرج نہیں الخ
(صحیح بخاری:4241 )’’ میں اللہ کی قسم جو صدقہ حضور اکرم صلہ اللہ علیہ وسلم چھوڑ گئے ہیں میں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔جس حال میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں (اس کی تقسیم وغیرہ ) میں وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی زندگی میں تھا۔‘‘
اب آپ تخصیص واضح فرمادیں۔
جواب
یہ دونوں روایتیں ایک ہی ہیں اور یہ کلمات ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک ہی مجلس میں ایک ہی بار کہے ہیں ۔ رواۃ نے ان الفاظ کو بالمعنى ذکر کرتے ہوئے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ کسی نے اسے عام کر دیا تو کسی نے اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ کرکے اسے خاص کر دیا ہے ۔ اور اصول ہے کہ ثقہ کا اضافہ مقبول ہوتا ہے جب تک وہ ثقات کے منافی نہ ہو ۔
اور دوسری روایت کے الفاظ واضح طور پر پہلی روایت کے الفاظ کے لیے مخصص ہیں کہ انہوں نے یہ بات باغ فدک سے متعلق ہی کہی تھی ۔
اسکی مثال یوں سمجھیں کہ اللہ تعالى بڑی بڑی حرام چیزوں کا تذکرہ کرتے ہوئے خون کا نام لیا ہے قرآن میں مختلف مقامات پر جس سے ہر قسم کے خون کی حرمت نکلتی ہے کیونکہ لفظ دم عام ہے اس میں وہ خون بھی شامل ہو جاتا ہے جو جانور کے گوشت میں رچ چکا ہوتا ہے اور اگر آپ گوشت کو پانی میں تھوڑی دیر تک صرف بگھو کر ہی رکھ دیں تو خون کی رنگت پانی پر غالب ہو جاتی ہے
پھر اللہ تعالى نے ایک جگہ أو دما مسفوحا کہہ کر اس خون کی تخصیص کردی کہ خون ہر قسم کا حرام نہیں بلکہ صرف وہ خون حرام ہے جو بہہ جاتا ہے
لہذا جگر تلی وغیرہ جو کہ خالص خون ہیں وہ حرام نہیں کیونکہ وہ بہتے نہیں اسی طرح وہ خون جو گوشت میں رچ بس چکا ہوتا ہے اور بہتا نہیں ہے اس میں کوئی حرج نہیں الخ
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق