شیخ اس کو اس طرح بھی
تو دیکھا جا سکتا ہے کہ قرآن میں مردار حرام ہے جبکہ حدیث میں ہے کہ سمندر
کا مردار حلال ہے۔ یعنی عموم تو قائم ہے لیکن سمندر کا مردار بطورِ خاص
حلال ہے۔ اسی طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ نےیہ الفاظ تو باغِ فدک کے موقع پر
ہی کہے ہیں لیکن ان کا عموم تو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اسے اس طرح ہرگز نہیں دیکھا جاسکتا !
کیونکہ مردار کا حرام ہونا ایک عمومی بات ہے اور الگ ہے ۔
سمندر کے مردار کا حلال ہونا اس عموم سے مسثنى ہے ۔
جبکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ ایک ہی موقع پر ایک ہی دفعہ ادا فرمائے ہیں جسے کچھ رواۃ نے مکمل الفاظ سے ذکر کیا ہے اور کچھ نے ادھورے الفاظ سے ۔ ان الفاظ کے ادھورا ہونیکی بناء پر انکے مقولہ کے عام ہونے کا شائبہ ہوتا ہے ۔ لیکن اگر اسی روایت کو مکمل الفاظ کے ساتھ پڑھ لیا جائے تو یہ شائبہ ختم ہوجاتا ہے ۔
دونوں باتوں میں بعد المشرقین ہے ۔
خوب سمجھ لیں ۔
الجواب بعون الوہاب
اسے اس طرح ہرگز نہیں دیکھا جاسکتا !
کیونکہ مردار کا حرام ہونا ایک عمومی بات ہے اور الگ ہے ۔
سمندر کے مردار کا حلال ہونا اس عموم سے مسثنى ہے ۔
جبکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ ایک ہی موقع پر ایک ہی دفعہ ادا فرمائے ہیں جسے کچھ رواۃ نے مکمل الفاظ سے ذکر کیا ہے اور کچھ نے ادھورے الفاظ سے ۔ ان الفاظ کے ادھورا ہونیکی بناء پر انکے مقولہ کے عام ہونے کا شائبہ ہوتا ہے ۔ لیکن اگر اسی روایت کو مکمل الفاظ کے ساتھ پڑھ لیا جائے تو یہ شائبہ ختم ہوجاتا ہے ۔
دونوں باتوں میں بعد المشرقین ہے ۔
خوب سمجھ لیں ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق