• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، أبريل 20

کیا اس روایت سے قربانی کا مرفوعا سنت ہونا ثابت ہوتا ہے ؟

شیخ صحیح بخاری کی ایک روایت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے:
سیدنا عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں کسی بھی ایسی چیز پر عمل نہیں چھوڑ سکتا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے تھے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں آپ کے قول و فعل میں سے کچھ بھی چھوڑ دوں گا تو گمراہ ہو جاؤں گا۔‘‘ (صحیح بخاری:3093)
اب حضرت ابو بکر صدیق کا ایک مؤقف ملاحظہ فرمائیں‌کہ اُن کے نزدیک قربانی کرنا سنت ہے ،واجب نہیں ہے۔
(دیکھیئے المغنی ج8ص618 وغیرہ بحوالہ فقہ ابی بکر ص56) (مقالات ج2 از حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ ص609)
یعنی اس طرح قربانی کا سنت ہونا ثابت ہوتا ہے (مرفوعاً)
برائے مہربانی اس بارے میں اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں۔


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

 اس سے قربانی کا مرفوعا سنت ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔
کیونکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا کہ میں اس کام کو نہیں چھوڑنے والا الخ
اور قربانی کو سنت کہنا قربانی کو چھوڑنے کی دلیل نہیں ہے ۔
جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ییت اللہ کا طواف کے تین چکر رمل اور جار چکر آہستہ چل کر لگانے کے سنت ہونے سے انکار کرنا اس طریقہ کار کے ترک پر دلالت نہیں کرتا
دیکھیے صحیح مسلم ح ۱۲۶۴

اور آپ صحیح بخاری:3093 بغور ملاحظہ فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی یہ بات باغ فدک کے بارہ میں تھی۔
اور اگر سمجھ نہ آ رہی ہو تو یہی حدیث صحیح بخاری سے ہی 4241 سے دیکھ لیں ۔ ان شاء اللہ خوب تشفی ہوگی کیونکہ وہاں اس عموم کی تقیید واضح لفظوں میں موجود ہے۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق