میری بیٹی گزشتہ 10 سال سے دمہ کی مریض ہے
اور مسلسل دوائیاں استعمال کرتی ہے
لیکن مسقل افاقہ نہیں ہوتا۔
اب کسی نے بتایا ہے کہ اس کو جنگلی خرگوش کا گوشت کھلائیں اور خون بھی پلائیں۔
بتانے والے افراد کے عزیزوں نے اس طرح کیا تو ان کو بیماری سے شفاء مل گئی۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایسی حالت میں خون کو بطور دوا استعمال کیا جا سکتا ہے۔؟؟؟؟؟
کچھ لوگ دم کروانے کا بھی کہتے ہیں کیا دم کروایا جا سکتا ہے؟؟؟؟؟
اس صورت میں خون کو بطور دوائی استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ اس مرض کا علاج خون کے علاوہ بھی موجود ہے ۔ اور خون کو اللہ تعالى نے حرام قرار دیا ہے ۔ ہاں اضطراری حالت میں یعنی جب اسکے استعمال کے بغیر موت یقینی ہو جائے تو خون کا استعمال بقدر ضرورت مباح قرار دیا ہے ۔
جبکہ صورت مسؤلہ میں ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے ۔
ہاں دم کروایا جاسکتا ہے , کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دم میں کوئی حرج نہیں جبتک اس میں شرک نہ ہو ۔ (صحیح مسلم )
بتانے والے افراد کے عزیزوں نے اس طرح کیا تو ان کو بیماری سے شفاء مل گئی۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایسی حالت میں خون کو بطور دوا استعمال کیا جا سکتا ہے۔؟؟؟؟؟
کچھ لوگ دم کروانے کا بھی کہتے ہیں کیا دم کروایا جا سکتا ہے؟؟؟؟؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
اس صورت میں خون کو بطور دوائی استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ اس مرض کا علاج خون کے علاوہ بھی موجود ہے ۔ اور خون کو اللہ تعالى نے حرام قرار دیا ہے ۔ ہاں اضطراری حالت میں یعنی جب اسکے استعمال کے بغیر موت یقینی ہو جائے تو خون کا استعمال بقدر ضرورت مباح قرار دیا ہے ۔
جبکہ صورت مسؤلہ میں ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے ۔
ہاں دم کروایا جاسکتا ہے , کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دم میں کوئی حرج نہیں جبتک اس میں شرک نہ ہو ۔ (صحیح مسلم )
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق