تمام قسم کے نغمات کی حسین آوازیں:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جوتیز رفتار سوار کے اس کے سایہ میں سوسال چلنے کے برابر طویل ہے، جنت والے اور بالاخانوں وغیرہ والے باہر نکل کراس سایہ میں باتیں کیا کریں گے، ان میں سے کوئی جنتی دنیا کے گانے باجے کویاد کریگا تواللہ تعالیٰ جنت سے ایک ہوا روانہ کریں گے جواس درخت سے دنیا کی ہرطرح کی سریلی آوازوں اور نغمہ طرازیوں کوپیدا کریگی۔
(صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۲۶۰۔ البدورالسافرہ:۲۱۰۳)
اس روایت کو أبو بكر عبد الله بن محمد بن عبيد بن سفيان بن قيس البغدادي الأموي القرشي المعروف بابن أبي الدنيا (المتوفى: 281هـ) نے اپنی کتاب صفة الجنة وما أعد الله لأهلها من النعيم ج ۱ ص 188(261) میں بایں طور ذکر فرمایا ہے :
حدثنا أبو بكر بن زيد وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أبو عامر العقدي حدثنا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ عَلَى سَاقٍ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ فَيَتَحَدَّثُونَ فِي ظِلِّهَا فَيَشْتَهِي بَعْضُهُمْ وَيَذْكُرُ لَهْوَ الدُّنْيَا فَيُرْسِلُ الله عز وجل ريحا فَتُحَرِّكُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ بِكُلِّ لَهْوٍ كَانَ فِي الدُّنْيَا.
اسکی سند ضعیف ہے
اس میں زمعة بن صالح الجندى اليمانى ، أبو وهب ( نزيل مكة ) ضعیف ہے
امام محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله (المتوفى: 256هـ) نے اپنی کتاب التاريخ الكبير ج ۳ ص ۴۵۱میں اسے متروک قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے
يَرْوِي عَنْ سَلَمة بن وهرام، وابن طاووس. رَوَى عَنه: وكيع، وابْن وهب. يُخالف فِي حديثه، تَرَكَهُ ابْن مَهدي أخيرا.
اور اسی طرح اسکا شیخ سلمة بن وهرام اليمانى بھی حافظہ کی وجہ سے ضعیف ہے :
امام دار قطنی نے اسکی احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے «العلل» (3479)
اسی طرح امام ابو داود بھی اسے ضعیف قرار دیتے تھے ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جوتیز رفتار سوار کے اس کے سایہ میں سوسال چلنے کے برابر طویل ہے، جنت والے اور بالاخانوں وغیرہ والے باہر نکل کراس سایہ میں باتیں کیا کریں گے، ان میں سے کوئی جنتی دنیا کے گانے باجے کویاد کریگا تواللہ تعالیٰ جنت سے ایک ہوا روانہ کریں گے جواس درخت سے دنیا کی ہرطرح کی سریلی آوازوں اور نغمہ طرازیوں کوپیدا کریگی۔
(صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۲۶۰۔ البدورالسافرہ:۲۱۰۳)
الجواب بعون الوہاب
اس روایت کو أبو بكر عبد الله بن محمد بن عبيد بن سفيان بن قيس البغدادي الأموي القرشي المعروف بابن أبي الدنيا (المتوفى: 281هـ) نے اپنی کتاب صفة الجنة وما أعد الله لأهلها من النعيم ج ۱ ص 188(261) میں بایں طور ذکر فرمایا ہے :
حدثنا أبو بكر بن زيد وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أبو عامر العقدي حدثنا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ عَلَى سَاقٍ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ فَيَتَحَدَّثُونَ فِي ظِلِّهَا فَيَشْتَهِي بَعْضُهُمْ وَيَذْكُرُ لَهْوَ الدُّنْيَا فَيُرْسِلُ الله عز وجل ريحا فَتُحَرِّكُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ بِكُلِّ لَهْوٍ كَانَ فِي الدُّنْيَا.
اسکی سند ضعیف ہے
اس میں زمعة بن صالح الجندى اليمانى ، أبو وهب ( نزيل مكة ) ضعیف ہے
امام محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله (المتوفى: 256هـ) نے اپنی کتاب التاريخ الكبير ج ۳ ص ۴۵۱میں اسے متروک قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے
يَرْوِي عَنْ سَلَمة بن وهرام، وابن طاووس. رَوَى عَنه: وكيع، وابْن وهب. يُخالف فِي حديثه، تَرَكَهُ ابْن مَهدي أخيرا.
اور اسی طرح اسکا شیخ سلمة بن وهرام اليمانى بھی حافظہ کی وجہ سے ضعیف ہے :
امام دار قطنی نے اسکی احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے «العلل» (3479)
اسی طرح امام ابو داود بھی اسے ضعیف قرار دیتے تھے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق