گانا گانے والے، فرشتوں کے ترانے سے محروم:
تابعی مفسر محدث حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک منادی ندا کریگا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جواپنی آوازوں کواور اپنے کانوں کوفضولیات اور شیطان کے باجوں سے محفوظ رکھتے تھے؟ فرمایا کہ پھراللہ تعالیٰ ان حضرات کوکستوری کے باغ میں رخصت کردیں گے اور فرشتوں سے فرمائیں گے کہ تم میرے (ان) بندوں کے سامنے میری حمدوثناء اور بزرگی بیان کرو اور ان کویہ خوشخبری سنادو کہ ان پرکوئی خوف کی بات نہیں اور نہ ہی کوئی غم کی بات ہے۔
(المجالسۃ للدنیوی، البدورالسافرہ:۲۱۰۰)
اس روایت کو امام أبو بكر أحمد بن مروان الدينوري المالكي (المتوفى : 333هـ) نے اپنی کتاب المجالسة وجواهر العلم ج ۸ ص ۲۸۴ (3552) میں بایں طور نقل فرمایا ہے :
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، نا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدِ؛ قَالَ: يُنَادِي مُنَادٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الَّذِينَ كَانُوا يُنَزِّهُونَ أَصْوَاتَهُمْ وَأَسْمَاعَهُمْ عَنِ اللهْوِ، وَمَزَامِيرِ الشَّيْطَانِ؟ قَالَ: فَيُحِلُّهُمُ الله عز وجل [ص:285] رِيَاضِ الْجَنَّةِ مِنْ مِسْكٍ، فَيَقُولُ لِلْمَلائِكَةِ: أَسْمِعُوا عِبَادِي تَحْمِيدِي وَتَمْجِيدِي، وَأَخْبِرُوهُمْ أَنْ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ.
اسکی سند ضعیف ہے
اسکی سند میں سفيان بن سعيد بن مسروق الثورى ، أبو عبد الله الكوفى ( من ثور بن عبد مناة بن أد بن طابخة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد ) مدلس ہے اور عن سے بیان کر رہا ہے ۔
تابعی مفسر محدث حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک منادی ندا کریگا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جواپنی آوازوں کواور اپنے کانوں کوفضولیات اور شیطان کے باجوں سے محفوظ رکھتے تھے؟ فرمایا کہ پھراللہ تعالیٰ ان حضرات کوکستوری کے باغ میں رخصت کردیں گے اور فرشتوں سے فرمائیں گے کہ تم میرے (ان) بندوں کے سامنے میری حمدوثناء اور بزرگی بیان کرو اور ان کویہ خوشخبری سنادو کہ ان پرکوئی خوف کی بات نہیں اور نہ ہی کوئی غم کی بات ہے۔
(المجالسۃ للدنیوی، البدورالسافرہ:۲۱۰۰)
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب
اس روایت کو امام أبو بكر أحمد بن مروان الدينوري المالكي (المتوفى : 333هـ) نے اپنی کتاب المجالسة وجواهر العلم ج ۸ ص ۲۸۴ (3552) میں بایں طور نقل فرمایا ہے :
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، نا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدِ؛ قَالَ: يُنَادِي مُنَادٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الَّذِينَ كَانُوا يُنَزِّهُونَ أَصْوَاتَهُمْ وَأَسْمَاعَهُمْ عَنِ اللهْوِ، وَمَزَامِيرِ الشَّيْطَانِ؟ قَالَ: فَيُحِلُّهُمُ الله عز وجل [ص:285] رِيَاضِ الْجَنَّةِ مِنْ مِسْكٍ، فَيَقُولُ لِلْمَلائِكَةِ: أَسْمِعُوا عِبَادِي تَحْمِيدِي وَتَمْجِيدِي، وَأَخْبِرُوهُمْ أَنْ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ.
اسکی سند ضعیف ہے
اسکی سند میں سفيان بن سعيد بن مسروق الثورى ، أبو عبد الله الكوفى ( من ثور بن عبد مناة بن أد بن طابخة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد ) مدلس ہے اور عن سے بیان کر رہا ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق