• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأربعاء، مايو 16

کیا جنت میں درختوں کے پتوں سے میوزک بجے گا ؟؟؟

کیا جنت میں درختوں کے پتوں سے میوزک بجے گا ؟؟؟
درخت سے خوبصورت آواز کیسے پیدا ہوگی:

حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إن في الجنة شجرة جذوعها من ذهب وفروعها من زبرجد ولؤلؤ فتهب لها ريح فتصفق فما سمع السامعون بصوت قط ألذمنه۔
(صفۃ الجنۃ، ابونعیم:۴۳۳)
ترجمہ:جنت میں ایک درخت جس کے تنے سونے کے ہوں گے اور شاخیں زبرجد اور لؤلؤ کی ہوں گی اس پرہوا چلے گی تو وہ (شاخیں) حرکت میں آئیں گی (اس کو) سننے والے اس سے زیادہ لذیذ کوئی آواز نہیں سنیں گے۔ 


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب 

اس روایت کو أبو نعيم أحمد بن عبد الله بن أحمد بن إسحاق بن موسى بن مهران الأصبهاني (المتوفى: 430هـ) نے اپنی کتاب صفة الجنة ج ۲ ص ۲۷۱,۲۷۲ ح ۴۳۳ میں بایں طور نقل فرمایا ہے :
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَافِدٍ، عَنْ رَجُلٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَفُرُوعُهَا مِنْ زَبَرْجَدٍ وَلُؤْلُؤٍ، فَتَهُبُّ لَهَا رِيحٌ فَتُصَفِّقُ، فَمَا سَمِعَ السَّامِعُونَ بِصَوْتِ شَيْءٍ قَطُّ أَلَذَّ مِنْهُ

اور
اسکی سند شدید ضعیف ہے :

اسکی سند میں مذکور راوی
مَسلَمَة بْن عليٍّ، أَبو سَعِيد، الشّامِيُّ، الخُشَنِيُّ کے بارہ میں محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله (المتوفى: 256هـ) فرماتے ہیں مُنكَرُ الحديثِ التاريخ الكبير ج ۷ ص ۳۸۸ (۱۶۹۲) أبو الحسن علي بن عمر بن أحمد بن مهدي بن مسعود بن النعمان بن دينار البغدادي الدارقطني (المتوفى: 385هـ)
نے اسے اپنی کتاب «الضعفاء والمتروكين» (526) میں ذکر فرمایا ہے ۔
اور اپنی کتاب
«العلل» 8 / 126 میں فرماتے ہیں كان ضعيفًا، متروك

شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ) اپنی کتاب ميزان الاعتدال في نقد الرجال ۱۰۹/۴ (۸۵۲۷) میں فرماتے ہیں
شامي واه. حدث عن يحيى الن الحارث الذمارى، وجماعة. تركوه
اسی طرح دیگر ائمہ مثلا امام نسائی , حاکم , ابن عدی , ابو زرعہ رازی , ازدی , ساجی , اور آجری وغیرہ سے بھی اس پر اسی قسم کی شدید جرح منقول ہے ۔ اور یاد رہے کہ جنت میں کسی قسم کا میوزک نہ ہوگا مزید کے لیے ملاحظہ فرمائیں:

جنت میں میوزک اور موسیقی
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق