اس کی کیا دلیل ہے کہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جانور خصی کیئے جاتے تھے مگر اس نقص کو عیب شمار نہیں کیا جاتا تھا۔
جو شخص یہ دعوى کرے گا کہ اسے عیب شمار کیا جاتا تھا دلیل تو وہ دے گا کیونکہ اصول یہی ہے کہ دلیل مدعی کے ذمہ ہوتی ہے ۔
رہی یہ بات کہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسے جانور قربانی کے لیے ذبح کیے جاتے تھے تو ہم نے کوئی ایسا دعوى نہیں کیا ہے ۔ ہاں یہ ضرور کہا ہے کہ اللہ تعالى کے قول بقر ابل معز اور ضأن کے عموم میں خصی وغیر خصی ہمہ قسم جانور شامل ہیں !
الجواب بعون الوہاب
جو شخص یہ دعوى کرے گا کہ اسے عیب شمار کیا جاتا تھا دلیل تو وہ دے گا کیونکہ اصول یہی ہے کہ دلیل مدعی کے ذمہ ہوتی ہے ۔
رہی یہ بات کہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسے جانور قربانی کے لیے ذبح کیے جاتے تھے تو ہم نے کوئی ایسا دعوى نہیں کیا ہے ۔ ہاں یہ ضرور کہا ہے کہ اللہ تعالى کے قول بقر ابل معز اور ضأن کے عموم میں خصی وغیر خصی ہمہ قسم جانور شامل ہیں !
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق