کیا خصی جانور کی قربانی جائز ہے ؟
دونوں صورتوں میں دلیل درکار ہے۔
خصی جانور کی قربانی کرنا جائز ہے ۔
اسکی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے جانور کے خصی ہونے کو قربانی سے مانع عیوب میں شمار نہیں کیا ۔
یعنی جن عیوب کی بناء پر قربانی منع ہوتی ہے انکے علاوہ اور کسی بھی قسم کا عیب جانور میں پایا جائے تو وہ قربانی پر لگ جاتا ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالى نے گائے اونٹ بکری بھیڑ کی جنس کی قربانی کا حکم دیا ہے اور ان میں کسی بھی عیب کو مانع قرار نہیں دیا سوائے ان عیوب کے جنہیں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی زبان پر بیان کیا گیا ہے
دونوں صورتوں میں دلیل درکار ہے۔
خصی جانور کی قربانی کرنا جائز ہے ۔
اسکی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے جانور کے خصی ہونے کو قربانی سے مانع عیوب میں شمار نہیں کیا ۔
یعنی جن عیوب کی بناء پر قربانی منع ہوتی ہے انکے علاوہ اور کسی بھی قسم کا عیب جانور میں پایا جائے تو وہ قربانی پر لگ جاتا ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالى نے گائے اونٹ بکری بھیڑ کی جنس کی قربانی کا حکم دیا ہے اور ان میں کسی بھی عیب کو مانع قرار نہیں دیا سوائے ان عیوب کے جنہیں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی زبان پر بیان کیا گیا ہے
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق