اگر عقیقہ فرض ہے تو اسکا وقت بھی متعین ہوگا؟
اگر کوئی عقیقہ کو سات دن کے اندر ہے سمجھ کر کر لیتا ہے تو اسکا کیا حکم ہے؟
1۔ عقیقہ فرض ہے اور اسکا دن بھی مقرر ہے یعنی ساتوان دن ہے ۔
۲۔ یہ اسکا سہو ہے ۔ کیونکہ عقیقہ سات دن کے اندر نہیں بلکہ ساتویں دن ہے ۔
اگر کوئی عقیقہ کو سات دن کے اندر ہے سمجھ کر کر لیتا ہے تو اسکا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
1۔ عقیقہ فرض ہے اور اسکا دن بھی مقرر ہے یعنی ساتوان دن ہے ۔
۲۔ یہ اسکا سہو ہے ۔ کیونکہ عقیقہ سات دن کے اندر نہیں بلکہ ساتویں دن ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق