• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

السبت، مايو 5

قاتل مفلس ہو تو شریعت کیا کہتی ہے ؟

السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔
گزارش ہے کہ قاتل مفلس غریب ہے ۔مقتول کوورثا کودیت ادا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔اس کے لئے شریعت میں کیاحکم ہے؟



الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق ولاصواب والیہ المرجع والمآب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

شریعت اسلامیہ تو مقتول کے ورثاء کو اختیار دیتی ہے , خواہ وہ دیت لے لیں خواہ قصاص لے لیں , خواہ معاف کر دیں ۔
ہاں  اگر مقتول کے ورثاء دیت پر راضی ہو جائیں تو قاتل کے عصبات یعنی بیٹوں , والدین , بھائیوں , چچوں اور چچازاد بھائیوں اور ان سب کی مذکر اولاد کو شریعت پابند کرتی ہے کہ وہ دیت ادا کرنے میں تعاون کریں ۔ (صحیح بخاری کتاب الدیات باب جنین المرأۃ وأن العقل على الولد و عصبتہ ۶۹۱۰)
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق