• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، يونيو 15

15 سالہ لڑکی بنا والدین کی اجازت کے شادی کرسکتی ہے ؟؟؟





دہلی ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق جسکا
لنک دیا گیا ہے، انہوں‌نے یہ کہا ہے کہ شریعت محمدی (ص) کی رو سے1۔ 15 سالہ لڑکی بنا والدین کی اجازت کے شادی کرسکتی ہے۔

اس سوال کے ساتھ ساتھ مجھے یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ

2۔کیا لڑکی یا لڑکا، کسی بھی ولی کی اجازت کے بغیر اسلامی رو سے کسی بھی عمر میں‌شادی کرسکتی ہے، یا اسکے مختصر تفصیالات کیا ہیں۔


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

 ۱۔ دہلی ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ غیر شرعی ہے اور کتاب وسنت کے منافی ہے ۔
۲۔ کوئی بھی لڑکی کسی بھی عمر میں اپنے قریبی ترین ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کرسکتی ۔ اگر اس نے ایسا کیا تو اسکا نکاح باطل ہے ۔ ہاں اگر لڑکی کے اولیاء اسکے نکاح کے معاملہ میں آپس جھگڑیں تو پھر حکمران اس لڑکی کا ولی بن سکتا ہے , اور اس لڑکی کا بھی ولی بن سکتا ہے جسکا کوئی ولی ہو ہی نہ ۔
البتہ لڑکے کے لیے ولی ضروری نہیں ہے ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق