شیخ محترم ان احادیث کی صحت درکار ھے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر پر عمامہ اور کپڑا رکھنا:۔
اگر سر کو ننگا رکھنا بہتر ، سنت یا ضروری ہوتا تو رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کبھی بھی اپنے سر پر عمامہ رکھنے کا معمول نہ بناتے ۔ لیکن احادیث میں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مباک پر عمامہ یعنی پگڑی کا ذکر اتنی کثرت سے
آتا ہے کہ اس کے ضروری ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے ۔ ان روایات کی ایک جھلک
آپ بھی دیکھ لیجیے تاکہ آپ کو یقین ہو جایے کہ سر کو ننگا رکھن خلاف سنت
ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
فتح مکہ کے دن جب شہر میں داخل ہویے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر
مبارک پر سیاہ عمامہ تھا ۔ اور دوسری روایت حضرت عمروابن حریث رضٰی اللہ
تعالٰی عنہ سے ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ
دیکھا ۔ تیسری روایت بھی انہی سے خطبہ کے وقت عمامہ باندھنے کی ہے ۔ اور
چوتھی روایت حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے کہ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم جب عمامہ باندھتے تو اس کے شملہ کو اپنے دونوں مونڈھوں کے
درمیان پچھلی جانب ڈال لیتے تھے ۔ اور پانچویں روایت حضرت ابن عباس رضی
اللہ عنہ سے ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک
خطبہ پڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ تھا یا چکنی پٹی
تھی۔ یہ تمام روایات شمایل ترمذی میں امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کی
ہیں ۔ کتب احادیث میں مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے عمامہ
باندھنے کی متعلق اتنی کثرت سے احادیث منقول ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھتے تھے ۔ عمامہ سے
یا کسی کپڑے سے لیکن سر ننگا رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر گز عادت
مباکہ نہ تھی۔
عمامہ باندھنے کا حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حکما” بھی عمامہ باندھنے کا ثبوت احادیث
کے اندر ملتا یے ۔ چنانچہ ایک روایت یوں ملتی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ “اعتموا تزدادو حلما” عمامہ باندھا کرو اس سے حلم میں
بڑھ جاؤ ۔ ( رواہ الطبرانی فی الکبیر ج ا ص 194 مرفوعا )۔
امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے ۔
۔ ( فتح البار ج 10 ص 335 )۔
ایک اور روایت حضرت رُکانہ سے اس طرح آتی ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام
نے فرمایا ” ہمارے اور مشرکوں کے درمیان ایک فرق یہ بھی ہے کہ ہم ٹوپیوں پر
عمامہ باندھتے ہیں ” (مشکوۃ باب اللباس )۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمامہ باندھا
بھی ہے اور اس کے باندھنے کا اپنی امت کو حکم بھی دیا ہے ۔ اب اس بات کا
اندازہ آپ خود ہی لگا لیں کہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا
ہو اور اس کے کرنے کا حکم بھی دیں تو کیا وہ سنت نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔؟۔
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب واليه المرجع والمآب
|
اگر سر کو ننگا رکھنا بہتر ، سنت یا ضروری ہوتا تو رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کبھی بھی اپنے سر پر عمامہ رکھنے کا معمول نہ بناتے ۔ لیکن احادیث میں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مباک پر عمامہ یعنی پگڑی کا ذکر اتنی کثرت سے
آتا ہے کہ اس کے ضروری ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے ۔
|
بالکل درست لیکن ضروری بمعنى فرضیت "عمامہ" نہیں !
یقینا ننگے سر پھرنا سنت کے منافی ہے !
|
حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
فتح مکہ کے دن جب شہر میں داخل ہویے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر
مبارک پر سیاہ عمامہ تھا ۔
|
صحیح مسلم کتاب الحج باب جواز دخول مکۃ بغیر إحرام ح 1358
|
اور دوسری روایت حضرت عمرو ابن حریث رضٰی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ دیکھا ۔
|
صحیح مسلم :1359
|
تیسری روایت بھی انہی سے خطبہ کے وقت عمامہ باندھنے کی ہے ۔
|
صحیح مسلم :1359
یعنی دوسری اور تیسری روایت ایک ہی ہے صرف غلطی سے انہیں دو الگ الگ روایات سمجھ لیا گیا ہے ۔
|
اور چوتھی روایت حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب عمامہ باندھتے تو اس کے شملہ کو اپنے دونوں
مونڈھوں کے درمیان پچھلی جانب ڈال لیتے تھے ۔
|
جامع الترمذی :1736 ۔وسندہ صحیح ۔
|
اور پانچویں روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہے وہ فرماتے ہیں کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک خطبہ پڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ تھا یا چکنی پٹی تھی۔
|
صحیح بخاری :3800
|
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھتے تھے ۔
عمامہ سے یا کسی کپڑے سے لیکن سر ننگا رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر
گز عادت مباکہ نہ تھی۔
|
بالکل درست !
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حکما” بھی عمامہ باندھنے کا ثبوت
احادیث کے اندر ملتا یے ۔ چنانچہ ایک روایت یوں ملتی ہے کہ رسول صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ “اعتموا تزدادو حلما” عمامہ باندھا کرو اس سے حلم
میں بڑھ جاؤ ۔ ( رواہ الطبرانی فی الکبیر ج ا ص 194 مرفوعا )۔
امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے ۔
۔ ( فتح البار ج 10 ص 335 )۔
|
یہ روایت سخت ضعیف ہے ۔ حاکم کا اسے صحیح کہنا درست نہیں ۔
کیونکہ اسکی سند میں عبید اللہ بن أبی حمید متروک ہے ۔ اور عمران تمام ضعیف ہے ۔
|
ایک اور روایت حضرت رُکانہ سے اس طرح آتی ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ
والسلام نے فرمایا ” ہمارے اور مشرکوں کے درمیان ایک فرق یہ بھی ہے کہ ہم
ٹوپیوں پر عمامہ باندھتے ہیں ” (مشکوۃ باب اللباس )۔
|
جامع الترمذی :۱۷۸۴
یہ روایت بھی ضعیف ہے اور اسکی علت امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کرنے کے متصل بعد خود ہی بیان فرما دی ہے ۔
بقلم
ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر
نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق