بغیر محرم کے عورت کا اکیلے کار ڈرائیونگ کرنے کا کیا حکم ہے؟
عورتوں کو کار ڈرائیونگ کو جس ملک میں اجازت نہیں وہ فتوی اس ملک کیلئیے ہی ہے۔
اس فتوی میں مو جودہ دور کےفتنوں کا ذکر کیا گیا ہے جسکی وجہ سے اجازت نہیں دی گئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وصلم کی ازواج المطہرات اور ازواج اصحاب کا اونٹ چلانا ظاہر ہے انکے سامنے کیا گیا عمل ہے۔ تو یہ عمل وجوب کیلیے ہے یا تقریری حدیث کے ضمن میں مباح و مستحب ہے۔
امید ہے مدلل روشنی ڈالی جائیگی۔
عورتوں کو کار ڈرائیونگ کو جس ملک میں اجازت نہیں وہ فتوی اس ملک کیلئیے ہی ہے۔
اس فتوی میں مو جودہ دور کےفتنوں کا ذکر کیا گیا ہے جسکی وجہ سے اجازت نہیں دی گئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وصلم کی ازواج المطہرات اور ازواج اصحاب کا اونٹ چلانا ظاہر ہے انکے سامنے کیا گیا عمل ہے۔ تو یہ عمل وجوب کیلیے ہے یا تقریری حدیث کے ضمن میں مباح و مستحب ہے۔
امید ہے مدلل روشنی ڈالی جائیگی۔
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
- بغیر محرم عورت کا سفر کرنا ہی درست نہیں ہے , نہ پیدل نہ گاڑی پر نہ ڈائیونگ کرکے نہ سوار ہوکر !!!
- منع کا فتوى درست نہیں کسی بھی ملک کے لیے اور کسی بھی شہر کے لیے
- فتن تو ہر جگہ موجود ہیں ان کا سد باب جو شریعت نے دیا ہے اسے ہی اپنانا چاہیے ۔ اور پھر جب عورت کے ساتھ سفر میں اسکا محرم ساتھ ہوگا تو پھر یہ فتنوں والا معاملہ ہی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ عورت اپنے محرم کی موجودگی میں ڈرائیونگ کرے یا ویسے بیٹھی رہے فتنوں کے لیے برابر ہے
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق