• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأربعاء، أبريل 25

کیا ابن کثیر اور ابن قیم رحمہ سماع موتی کے قائل تھے اور اہل قبر پر سلامتی بھیجنے سے پتا چلتا ہے کہ وہ سنتے ہیں

کیا ابن کثیر اور ابن قیم رحمہ سماع موتی کے قائل تھے اور اہل قبر پر سلامتی بھیجنے سے پتا چلتا ہے کہ وہ سنتے ہیں ؟


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

 ۱۔ ابن کثیر اور ابن القیم کے ساتھ ساری دنیا بھی سماع موتى کی قائل ہو جائے تو بھی یہ سماع موتى کی دلیل نہیں بنتی !
دلیل صرف اور صرف وحی الہی ہے ۔
ہم ان دونوں بزرگوں اور ان جیسوں کے بارہ میں یہی کہیں گے کہ یہ انکی اجتہادی خطأ ہے ! جو کہ کسی بھی نبی سے بھی سرزد ہو تو حجت نہیں ہوتی چہ جائیکہ کسی امتی سے سرزد ہو ۔
۲۔ سلامتی بھیجنے سے سننا ثابت نہیں ہوتا ۔
اور یہ تو پھر مردے ہیں ہم اپنے سے دور کتنے ہی زندوں کے لیے سلامتی کی دعاء کرتے ہیں , کیا وہ ہماری اس سلامتی کی دعاء کو سنتے ہیں ؟؟؟
یاد رہے کہ ہمارا عقیدہ یہ کہ
مردوں اور زندوں یا اہل قبر وبرزخ اور اہل دنیا کے مابین آڑ اور رکاوٹ اور پردہ ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کے حالات و اقوال وافعال سے غافل ہیں ۔ الا کہ اس قرآنی اصول کا استثناء کسی شرعی دلیل سے ثابت ہو جائے ۔
جیسا کہ قلیب بدر والوں کا نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا خطاب سننا شرعی دلیل سے ثابت ہے ۔
مردہ کا دفن کرکے جانے والوں کے جوتوں کی آواز سننا دلیل شرعی سے ثابت ہے ۔
شہداء احد کے کچھ حالات زندہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معلوم ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہے ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق