سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارہ میں
ایک لڑکی کا نکاح اسکے اولیاء نے اسکی رضامندی کے بغیر کر دیا ابھی رخصتی نہ ہوئی
تھی کہ اس لڑکی نے عدالت سے خلع لے لیا ۔ اور اب وہ کسی دوسری جگہ نکاح کی
خواہشمند ہے ۔ کیا عدالتی خلع سے اسکا نکاح ختم ہوگیا ہے ؟ اور خلع سے کتنی مدت
بعد وہ نکاح کر سکتی ہے ۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
اگر کوئی عورت نکاح پر راضی نہ ہو تو وہ عدالت سے رجوع کرکے نکاح فسخ کرواسکتی
ہے ۔
صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے کہ " فَإِنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ
كَارِهَةٌ فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالَ
سُفْيَانُ وَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ عَنْ أَبِيهِ إِنَّ
خَنْسَاءَ " صحیح بخاری کتاب الحیل باب فی النکاح ح
6969
ترجمہ : خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا کا نکاح انکے والد نے کر دیا
تھا جبکہ وہ اس نکاح پر راضی نہیں تھیں تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسکا
نکاح فسخ فرما دیا تھا
اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عورت اگر کسی مرد سے نکاح کو
پسند نہ کرے تو وہ اس نکاح کو رد کرسکتی ہے اور عدالت اس نکاح کو فسخ کرسکتی ہے ۔
اور پھر اگر عورت کی رخصتی ہو چکی ہو اور وہ اپنے خاوند سے ازدواجی تعلقات
قائم کر چکی ہو تو وہ ایک حیض عدت گزارنے کے بعد نیا نکاح کرسکتی ہے
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں " أَنَّ
امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَلَى عَهْدِ
النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ "
ترجمہ : ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی زوجہ نے نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے
زمانہ میں ان سے خلع لیا تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک حیض عدت
گزارنے کا حکم دیا ۔ جامع الترمذی أبواب الطلاق باب ما جاء
فی الخلع ح 1158
اور وہ عورت جسکی ابھی رخصتی نہ ہوئی ہو تو اسکی کوئی عدت نہیں ہے ۔ حتى کہ
اگر اسے طلاق بھی ہو جائے تو بھی اسکی عدت نہیں ہے :
اللہ تعالى نے فرمایا ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ
آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ
أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا –
ترجمہ : اے اہل ایمان جب تم مؤمنہ عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں چھوئے
بغیر طلاق دے دو تو ان پر تمہاری خاطر کسی بھی قسم کی کوئی بھی عدت نہیں ہے ۔ الأحزاب :۳۳
درج بالا دلائل کی روشنی میں صورت مسؤلہ میں اس عورت کا نکاح فسخ ہو چکا ہے
اور اب وہ کہیں بھی نکاح کرسکتی ہے ۔
ہذا واللہ تعالى اعلم وعلمہ احکم وأبرم ورد العلم الیہ اسلم
والشکر والدعاء لمن نبہ وأرشد وقوم
وکتبہ
ابو عبد الرحمن محمد رفیق الطاہر
مدرس جامعہ دار الحدیث
المحمدیۃ
عام خاص باغ ملتان
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق