• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الخميس، أبريل 19

کلالہ کی وراثت ::میرے دو بھتیجے اور چار بھتیجیاں , دو بہنیں , اور ایک فوت شدہ بہن سے تین بھانجے اور ایک بھانجی ہے ۔ میرے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار کیا ہے ؟


سوال : میرے دو بھتیجے اور چار بھتیجیاں , دو بہنیں , اور ایک فوت شدہ بہن سے تین بھانجے اور ایک بھانجی ہے ۔ میرے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار کیا ہے ؟
الجواب بعون الوھاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
اللہ رب العالمین کا فرمان ہے : يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (النساء :176)
ترجمہ : لوگ آپ سے کلالہ کے بارہ میں فتوى طلب کرتے ہیں , کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالى تمہیں کلالہ کے بارہ میں فتوى دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اسکی اولاد نہ ہو , اور اسکی بہن موجود ہو تو اسے اس کے ترکہ میں سے آدھا حصہ ملے گا اور (اگر عورت فوت ہو جائے اور اسکا بھائی ہو تو) وہ اسکے سارے ترکہ کا وارث ہوگا ۔ اور اگر (بہنیں) دو ہوں تو انکے لیے کل ترکہ میں سے دو تہائی حصہ ہے اور اگر بہن بھائی ملے جلے ہوں تو ہر بھائی کے لیے بہن سے دوگنا ہے ۔ اللہ تعالى تمہیں وضاحت کر رہا ہے کہ کہیں تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز کو بخوبی جانتا ہے ۔
اور نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ
[ صحیح البخاری کتاب الفرائض باب میراث الولد من أبیہ وأمہ (۶۷۳۲)]
ترجمہ : جن لوگوں کے حصہ کتاب اللہ میں مقرر ہیں انہیں انکے مقررہ حصہ کے مطابق دے دو اور جو باقی بچ جائے وہ میت کے قریبی ترین مرد کے لیے ہے ۔
ان دلائل کی روشنی میں صورت مسؤلہ میں آپکی وفات کے بعد آپکی دونوں بہنوں بہنوں کو آپکے ترکہ میں سے دو تہائی حصہ ملے گا یعنی ہر بہن کو کل مال میں سے تیسرا حصہ ۔ اور جو ایک تہائی حصہ بہنوں کو مال دینے کے بعد باقی بچے گا وہ آپکے بھتیجوں میں برابر تقسیم ہو جائے گا ۔
بھتیجیاں اور بھانجے بھانجیاں اس ترکہ سے محروم ہونگی ۔
ھذا واللہ تعالى أعلم وعلمہ أحکم وأبرم وأکمل وأتم ورد العلم إلیہ أسلم والشکر والدعاء لمن نبہ وأرشد وقوم
وکتبہ
أبو عبد الرحمن محمد رفیق الطاہر مدرس جامعۃ ھذا
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق