کیا مصحف کے اوراق کو جلا کر دفن کرنا صحیح ہے ؟
جبکہ کچھ لوگ کہتےہیں کہ سمندر میں بہادینا چاہیے۔
اور کیا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کو جمع کرنے کے بعد باقی مصاحف کو جلانے کا حکم دیا تھا؟
جبکہ کچھ لوگ کہتےہیں کہ سمندر میں بہادینا چاہیے۔
اور کیا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کو جمع کرنے کے بعد باقی مصاحف کو جلانے کا حکم دیا تھا؟
جلانا درست ہے , اور جب جلا دیا گیا تو پھر دفن کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ الفاظ مٹ چکے ہوتے ہیں ۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا
إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَهُ أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ
وَكَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّأْمِ فِي فَتْحِ إِرْمِينِيَةَ
وَأَذْرَبِيجَانَ مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةَ
اخْتِلَافُهُمْ فِي الْقِرَاءَةِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لِعُثْمَانَ يَا
أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ
يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ اخْتِلَافَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى
فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى حَفْصَةَ أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ
نَنْسَخُهَا فِي الْمَصَاحِفِ ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْكِ فَأَرْسَلَتْ
بِهَا حَفْصَةُ إِلَى عُثْمَانَ فَأَمَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ
اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ
بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ وَقَالَ
عُثْمَانُ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّينَ الثَّلَاثَةِ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ
أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْءٍ مِنْ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوهُ
بِلِسَانِ قُرَيْشٍ فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ فَفَعَلُوا حَتَّى
إِذَا نَسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ
إِلَى حَفْصَةَ وَأَرْسَلَ إِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوا وَأَمَرَ بِمَا سِوَاهُ مِنْ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُحْرَقَ
صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن ح ۴۹۸۸
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق