سوال : دو بھائیوں منشی قادر بخش اور حافظ محمد شفیع کا ایک مشترکہ
مکان تھا ۔ وہ دونوں فوت ہوچکے ہیں فریق دوم حافظ محمد شفیع نے 1943ء میں اپنے
بھائی فریق اول منشی قادر بخش کو سرکاری کاغذ پر اقرار نامہ تحریر کرکے دیا تھا کہ
جب یہ مکان فروخت کیا جائے گا تو اس میں سے مبلغ 600 روپے جو مجھ پر قرض ہیں فریق
اول منشی قادر بخش کو ادا کیے جائیں گے ۔
فریق دوم کا ایک
بیٹا اسکی موجودگی میں فوت ہوگیا تھا جسکی اولاد نرینہ میں ایک بیٹا زندہ ہے (یعنی
میت کا پوتا) اسی طرح میت کا ایک بیٹا تاحال بقید حیات ہے ۔ فریق دوم حافظ محمد
شفیع نے وصیت کی تھی کہ میرے پوتے کو مکان کا حصہ ضرور دینا۔
دریں صورت وراثت
کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
الجواب
بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
مسئلہ نمبر۱ ۔ فریق دوم حافظ محمد شفیع کے اقرا کے مطابق وہ
فریق اول منشی قادر بخش کا ۶۰۰ روپے کا مقروض ہے ۔ لہذا جب بھی یہ مکان فروخت کیا
جائے اس عہد وپیماں کے مطابق مبلغ ۶۰۰ روپے مکان مذکورہ کی قیمت سے ادا کیے جائیں
۔ پھر بقیہ رقم اسکے ورثاء میں تقسیم کی جائے کیونکہ اللہ تعالى نے فرمایا ہے :
مِنْ
بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ , مِنْ
بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ , مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى
بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ (النساء : ۱۱,۱۲)
یعنی وصیتوں کو پورا کرنے اور قرض کی ادائیگی کے بعد ترکہ
تقسیم کیا جائے ۔
مسئلہ نمبر ۲۔ میت کے بیٹے کی موجودگی میں میت کا پوتا وارث
نہیں ہوتا کیونکہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ
فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ"
یعنی جن لوگوں کے حصص کتاب اللہ میں مقرر ہیں انہیں انکے حصے دینے کے بعد جو مال
باقی بچے وہ قریب ترین مرد رشتہ دار کے لیے ہے ۔ [
صحیح بخاری کتاب الفرائض باب میراث الولد من من أبیہ وأمہ (۶۷۲۳)]
اور میت کا بیٹا میت کے پوتے کی نسبت زیادہ قریبی ہوتا ہے
۔ کیونکہ میت کا بیٹأ میت کا بیٹا ہوتا ہے
اور میت کا پوتا میت کے بیٹے کا بیٹأ ہوتا ہے ۔
اور میت کے لیے کسی وارث کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں غیر وارث کے حق میں
وصیت کی جاسکتی ہے ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے " لا وصیۃ لوارث " یعنی کسی وارث کے لیے وصیت کے لیے وصیت کرنا جائز
نہیں ہے ۔
[ جامع الترمذی
أبواب الوصایا باب ما جاء لا وصیۃ لوارث (۲۱۲۰)]
اور صورت مسؤلہ میں پوتا وارث نہیں ہے لہذا اسکے لیے وصیت
کرنا جائز ہے ۔
اور میت نے پوتے کے لیے یہ کہہ کر وصیت کی ہے " میرے
پوتے کو مکان حصہ ضرور دینا" جس سے یہ بات واضح سمجھ آتی ہے کہ جنتا حصہ میت
کے بیٹے کا بنتا تھا اتنا ہی میت نے اپنے پوتے کے لیے وصیت کیا ہے ۔
لہذا اگر مکان کے اس حصہ کی مالیت میت کے کل ترکہ ( بشمول
ومکان ویگر اشیاء ) میں سے ایک تہائی یا اس سے کم ہے تو وہ اسے دے دیا جائے اور
اگر ایک تہائی سے زایادہ ہے تو پھر صرف ایک تہائی دیا جائے باقی سارا مال میت کے
دیگر ورثاء کا ہے ۔
ہذا واللہ تعالى اعلم وعلمہ اکمل واتم ورد العلم الیہ اسلم
والشکر والدعاء لمن نبہ وارشد وقوم
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق