• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الثلاثاء، فبراير 19

کیا بیوی کو اپنی کمائی میں سے خرچ کرنے کے لیے شوہر کی اجازت لینا ضروری ہے ؟

کیا بیوی کو اپنی کمائی میں سے خرچ کرنے کے لیے شوہر کی اجازت لینا ضروری ہے ؟
اور بیوی کے پاس جو والدین کی طرف سے زیور ہےیا جو شوہر نے خرید کر دیا ہے - اس میں سے بیوی اپنی مرضی سے کسی کو یا اللہ کی راہ میں دے سکتی ہے-



الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب

کوئی بھی بیوی اپنی کمائی یا اپنا مال بھی خاوند کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں کرسکتی !
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ وَحَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ أَمْرٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی بھی عورت کے لیے اپنے مال میں کسی بھی قسم کا تصرف جائز نہیں ہے جب اسکا خاوند اسکی عصمت کا مالک ہو ۔
سنن أبی داود کتاب البیوع باب فی عطیۃ المرأۃ بغیر إذن زوجہا ح ۳۵۴۶

یاد رہے کہ خاوند یا دیگر لوگوں کی اجازت دو طرح سے ہوتی ہے ۔
ایک تو یہ کہ وہ خود اپنے منہ سے بول کر اجازت دے اسے اجازت لفظی کہتے ہیں 
اور دوسرا یہ کہ وہ کسی کام پر برا نہ منائے ۔ اسے اجازت حکمی کہتے ہیں ۔
عموما عورتیں اپنے گھر میں سے ایک محدود مقدار میں خرچ یا صدقہ یا ہبہ کریں تو انکے خاوند اس پر ناراض نہیں ہوتے بلکہ موافقت کرتے ہیں ۔ حالانکہ انہوں نے اپنے منہ سے بول کر وہ کام کرنے کی اجازت نہیں دی ہوتی ۔ یہ اجازت حکمی ہے ۔ 
اور اس مال کی مقدار کہ جس پر خاوند ناراض نہیں ھوتا مختلف لوگوں میں مختلف ہوتی ہے ۔ مالدار لوگوں میں ہزاروں کے حساب سے اور متوسط لوگوں میں سو کے حساب سے اور نہایت غریب لوگوں میں دہائیوں کے حساب سے ۔
ہاں بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خاوند بہت کنجوس ہوتا ہے اور وہ کچھ بھی خرچ نہیں کرنے دیتا ۔ تو ایسی صورت میں عورت اپنے یا خاوند کے مال سے کچھ بھی خرچ نہیں کرسکتی اسکی اجازت کے بغیر ۔
البتہ اگر خاوند اتنا ہی کنجوس ہو کہ وہ بنیادی اخرجات بھی پورے نہ کر رہا ہو , تو بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر اپنا یا خاوند کا مال اسقدر خرچ کر سکتی ہے جس سے اسکی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں ۔
یاد رہے کہ بنیادی ضروریات میں صرف رہائش , لباس اور خوراک شامل ہیں جسکے بغیر زندہ رہنا دشوار ہو !
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق