• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الثلاثاء، فبراير 26

کیا یہ جملہ " بغیر تحقیق و تصدیق کے حدیث کو ہمارے منہ پر پھینکنا درست نہیں ہے" توہین رسالت کے مقدمہ کا سبب بن سکتا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارہ میں کہ دو آدمیوں کے درمیان بحث چل رہی تھی , بحث کے دوران ایک شخص نے اپنی بات کی دلیل میں رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی حدیث پیش کی ۔ جس کے جواب میں دوسرے شخص نے کہا کہ کتنے کتنے کیس ہم ایک دوسرے کو سناتے ہیں , کتنے معاملات میں ہم بحث کرتے ہیں اور دلائل میں قرآن اور احادیث کا حوالہ دیتے ہیں ۔ تو اس طرح بغیر تحقیق و تصدیق کے حدیث کو ہمارے منہ پر پھینکنا(نعوذ باللہ) درست نہیں ہے ۔ جو بھی آیت یا حدیث آپ پیش کریں , پہلے اسکی تحقیق وتصدیق تو کر لیں ۔
جناب عالی ! مندرجہ بالا گفتگو میں حدیث یا رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی توہین , بے ادبی , یا گستاخی کا کوئی پہلو نکلتا ہے ؟ یا مندرجہ بالا جملوں میں بحث کے دوران اس قسم کے الفاظ کا استعمال مخاطب کو سخت جواب دینا مقصود ہے ؟ مخاطب کو سخت انداز میں تنبیہ کرنا مقصود ہے ؟ اور کیا اس حوالہ سے کسی قسم کا کوئی مقدمہ بنتا ہے ؟                                                 جزاکم اللہ خیرا
العارض : شیری رحمن
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں قائل نے بات بالکل صحیح کہی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو آگے پھیلانا درست نہیں ہے اور بالخصوص نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب باتوں یعنی احادیث مبارکہ کو بلا تحقیق بیان کر دینا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔ کیونکہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے :
كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ  (صحيح مسلم : 5)
آدمی کے لیے اتنا جھوٹ ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے ۔
نیز فرمایا : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ (صحيح بخاري: 109)
جس شخص نے کوئی ایسی بات مجھ سے منسوب کی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں بلا تحقیق بات کرنا کتنا بڑا جرم ہے ۔
لیکن کہنے والے نے یہ درست بات جس انداز میں کہی ہے وہ انداز غیر محتاط ہے , ایسے انداز سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ اور اللہ تعالى نے بھی اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے : ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل : ۱۲۵)
اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھے انداز میں نصیحت کرتے ہوئے دعوت دیجیئے , اور انکے ساتھ مجادلہ ومناظرہ بھی باسلوب احسن کیجیئے ۔
الغرض , صورت مسؤلہ میں قائل کی نیت پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اصلاح اور خیر کی نیت ہی کا حامل ہے اور اس نے جذبہ خیر خواہی کے تحت یہ کلمات ادا کیے ہیں , اور ان کلمات سے نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم یا آپکے فرامین کی توہین کا پہلو بھی نہیں نکلتا , لیکن اس سب کچھ کے باوجود یہ الفاظ غیر مناسب اور نا شائشتہ ہیں ۔ ان سے پرہیز کیا جائے ۔
هذا ما عندي والله تعالى أعلم , علمه أكمل وأتم , ورد العلم إليه أسلم , والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق