سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارہ میں کہ
ایک شخص نے پہلے ایک نکاح کر رکھا ہے اور اب وہ اسی عورت کی بھانجی سے نکاح کرنا
چاہتا ہے ۔ کیا شریعت اسلامیہ اس بات کی اجازت دیتی ہے ؟
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے منع فرمایا ہے :
عن جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ
خَالَتِهَا {صحیح بخاری
کتاب النکاح باب لا تنکح المرأۃ على عمتہا ح5108}
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے عورت کی پھوپھی یا خالہ سے
نکاح کرنے کے بعد انکی موجودگی میں ہی عورت (یعنی انکی بھانجی یا بھتیجی ) سے نکاح
کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
لہذا یہ کام درست نہیں ہے ۔ اس سے گریز کیا جائے ۔
هذا ما عندي والله تعالى أعلم , وعلمه أكمل وأتم , ورد العلم إليه
أسلم , والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق