• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الاثنين، أبريل 1

قرآنی دعاء میں کچھ الفاظ کا اضافہ

شیخ صاحب کسی نے یہ سوال پوچھا ہے۔

۱۔ ربناآتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقناعذاب النار"

وقنا عذاب القرض
... وقنا عذاب المرض
وقنا عذاب القبر
وقنا عذاب الحشر
وقنا عذاب الجهنم
وقنا عذاب الميزان

کیا اوپر ذکر کی گئی قرآنی دعاوں میں ان الفاظ کا اضافہ ٹھیک ہے؟

۲۔ میرے ناقص علم کے مطابق 
ربناآتنا في الدنيا حسنة
اس میں یہ بھی شامل ہیں بدرجہ اولی
وقنا عذاب القرض
... وقنا عذاب المرض
اسی طرح 
وفي الآخرة حسنة وقناعذاب النار میں 
وقنا عذاب القبر
وقنا عذاب الحشر
وقنا عذاب الجهنم
وقنا عذاب الميزان
شامل ہیں۔
جب ہم دنیا میں اللہ سے بھلائی کا سوال کرتے ہیں تو پھر اس میں سب دنیاوی امور خود بخود آجاتے ہیں۔
اسی طرح جب آخرت میں بھلائی کا سوال کرتے ہیں تو پھر عذاب قبر ، میزان، جہنم اور سب کچھ آجاتا ہے۔


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع و المآب



۱۔ دعاء ایک ایسا عمل ہے جس میں کسی قسم کے الفاظ کی شریعت نے کوئی قید نہیں لگائی ۔
ہاں مخصوص مواقع یا اوقات میں مانگی جانے والی ادعیہ جن کے الفاظ شریعت نے خاص کیے ہیں ان میں رد وبدل کی گنجائش نہیں ۔

۲۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ اس جامع دعاء میں بعد والی ساری دعائیں شامل ہیں ۔
لیکن جامع دعاء کر لینے کے بعد اگر کوئی اور غیر جامع دعاء بھی مانگ لے تو اس میں حرج والی کوئی بات نہیں ہے ۔
مثلا یہی دعاء ربنا آتنا مانگنے کے بعد اللہم اشف مرضانا .... الخ مانگنا درست ہی ہے حالانکہ یہ دعاء بھی فی الدنیا حسنۃ میں مانگی جا چکی ہے ۔
لہذا جہاں تک دین میں وسعت ہے وسعت رہنے دیں اور چلنے دیں ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

هناك تعليقان (2):

  1. shaikh sahib is me be rehnumai ker dejye ke salam ke andar jo baz log mazeed aagy kehty hen wa jannato halal wa dozakh haram etc ye be keh sakty hen??

    ردحذف
    الردود
    1. نہیں کہہ سکتے !
      کیونکہ سلام میں شریعت نے الفاظ متعین کیے ہیں , اور میں نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ جہاں شریعت کچھ الفاظ متعین کر دے وہاں کمی یا اضافہ جائز نہیں ہوتا ہے ۔
      ایک مختصر سا اصول سمجھ لیں کہ کہاں جہاں شریعت اسلامیہ نے کہا ہے کہ یہ الفاظ کہو , وہاں وہی الفاظ کہنا لازم ہوگا اور اس میں کمی یا اضافہ نا جائز ہوگا ۔
      اور سلام میں بھی شریعت نے کہا ہے کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہو ۔
      لہذا اس پر اضافہ درست نہیں ہوگا ۔
      ہاں کمی جائز ہے کیونکہ کمی کرنے کی شریعت نے اجازت دی ہے ۔ اور وہ اجازت اس حدیث سے ثابت ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے السلام علیکم کہنے والے کو دس نیکیوں اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہنے والے کو بیس نیکیوں اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنے والے کو تیس نیکیوں کی بشارت دی ہے ۔

      حذف