• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

السبت، أبريل 21

دعوت دین ہر ہر فرد پر واجب ہے یا مسلمانوں کی صرف ایک جماعت پر ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ
شیخ مکرم و محترم

کیا سورہ عصر اور درج زیل آیت میں کوئی تطبیق کی جائے گی؟


ولتكن منكم امة يدعون الي الخير ويامرون بالمعروف وينهون عن المنكر واولئك هم المفلحون

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں

جزاک اللہ خیرا۔ 

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
 
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سورۃ العصر میں تمام تر اہل ایمان کے لیے حسب استطاعت دعوت دین کو فرض عین کیا گیا ہے ۔
جبکہ ان آیات اور ان جیسی دیگر آیات میں اجتماعی طور پر دعوت دینے والی ایک ٹیم بنانے کا حکم دیا جا رہا ہے ۔ اور یہ بھی فرض عین ہے ۔
یعنی انفرادی طور پر دعوت دینا بھی فرض عین ہے اور اجتماعی دعوت دینے کے لیے ایک دعوتی ٹیم تیار کرنا بھی فرض عین ہے ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق