ایک شخص جس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ ہی والدین! اُس نے مرتے وقت وصیت کی کہ اُس کی تمام جائیداد اُس کے بھتیجے کے نام کر دی جائے اور وہی اس تمام جائیداد کا وارث قرار دیا جائے۔ لیکن اس شخص کی ایک بہن بھی ہے۔ اور اس شخص نے اپنی بہن کے لئے وراثت میں سے کچھ بھی متعین نہیں کیا۔
سوالات:
1۔ کیا بھائی کے ترکے میں سے بہن کا کچھ حصہ ہے؟ 2۔ اگر ہاں تو اس کا کیا حساب ہے؟ 3۔ جس شخص نے وصیت کی ہے وہ شخص اب انتقال کر گیا ہے، تو کیا اس کے مرنے کے بعد صحیح وصیت پر عمل کیا جائے یا جو وہ وصیت کر چُکا ہے اُسی پر عمل کیا جائے۔ 4۔ عمل کا دار و مدار نیتوںپر ہے، تو اس کی قطعی طور پر یہ نیت نہیں تھی کہ وہ شریعت کے مطابق وصیت کرے، اس نے نفسانی خواہشات کی بناءپر ایسا کیا۔ اگر اس کے مرنے کے بعد صحیحطریقے سے جائیداد کی تقسیم کی جائے تو کیا اس کا اجر اس شخص کو ملے گا یا وہ مستقل طور پر گناہ گار ہی رہے گا؟
1۔ کیا بھائی کے ترکے میں سے بہن کا کچھ حصہ ہے؟ 2۔ اگر ہاں تو اس کا کیا حساب ہے؟ 3۔ جس شخص نے وصیت کی ہے وہ شخص اب انتقال کر گیا ہے، تو کیا اس کے مرنے کے بعد صحیح وصیت پر عمل کیا جائے یا جو وہ وصیت کر چُکا ہے اُسی پر عمل کیا جائے۔ 4۔ عمل کا دار و مدار نیتوںپر ہے، تو اس کی قطعی طور پر یہ نیت نہیں تھی کہ وہ شریعت کے مطابق وصیت کرے، اس نے نفسانی خواہشات کی بناءپر ایسا کیا۔ اگر اس کے مرنے کے بعد صحیحطریقے سے جائیداد کی تقسیم کی جائے تو کیا اس کا اجر اس شخص کو ملے گا یا وہ مستقل طور پر گناہ گار ہی رہے گا؟
الجواب
بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
۱,۲ ) صورت مسؤلہ میں بہن کو بھائی ترکہ میں سے آدھا حصہ
ملے گا کیونکہ اللہ تعالى کا فرمان ذی شان
ہے : يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ
إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ
يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ
مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ
الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ
عَلِيمٌ (النساء :176)
ترجمہ : لوگ آپ سے
کلالہ کے بارہ میں فتوى طلب کرتے ہیں , کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالى تمہیں کلالہ کے
بارہ میں فتوى دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اسکی اولاد نہ ہو , اور
اسکی بہن موجود ہو تو اسے اس کے ترکہ میں سے آدھا حصہ ملے گا اور (اگر عورت
فوت ہو جائے اور اسکا بھائی ہو تو) وہ اسکے سارے ترکہ کا وارث ہوگا ۔ اور اگر
(بہنیں) دو ہوں تو انکے لیے کل ترکہ میں سے دو تہائی حصہ ہے اور اگر بہن بھائی ملے
جلے ہوں تو ہر بھائی کے لیے بہن سے دوگنا ہے ۔ اللہ تعالى تمہیں وضاحت کر رہا ہے
کہ کہیں تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز کو بخوبی جانتا ہے ۔
۳) اللہ رب العالمین
کافرمان ہے : فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ
فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (البقرۃ: 182)
اور جس شخص کو وصیت کرنیوالے سے خطأ ًیا عمدا ًگناہ میں
واقع ہونے کا خدشہ محسوس ہوا تو اس نے ان
(ورثاء) کے مابین اصلاح کردی تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ یقینا اللہ تعالى بہت
بخشنے والا نہایت رحم کرنیوالا ہے ۔
اور نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم بھی وصیتوں کی اصلاح
فرماتے تھے : عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ
مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ فَدَعَا بِهِمْ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا ثُمَّ
أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً وَقَالَ لَهُ قَوْلًا
شَدِيدًا [ صحيح مسلم كتاب الأيمان باب من أعتق شركا له في
عبد (1668)]
ترجمہ : سیدنا عمران
بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے چھ غلام موت کے وقت آزاد کر
دیے جبکہ ان کے سوا اسکے پاس کوئی اور مال نہ تھا تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ان تمام تر
غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم فرمایا اور پھر انکے مابین قرعہ
اندازی کی اور ان میں سے دو کو آزاد فرما دیا اور باقی چاروں کو غلام ہی رکھا اور
اس (وصیت کرنیوالے) کے بارہ میں آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے بہت سخت بات کہی ۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص غلط وصیت کرے تو
اسکی غلط وصیت کو نافذ نہیں کیا جائے گا بلکہ اسکی اصلاح کی جائے گی ۔ اور یہ بات
بھی ثابت ہوئی کہ کوئی بھی شخص اپنے مال میں سے زیادہ سے زیادہ ایک تہائی حصہ کی
وصیت کر سکتا ہے ۔ اگر کوئی اس سے زائد کی وصیت کرے گا تو وہ وصیت باطل ہو جائے گی
۔ اور یادر ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے " لا وصیۃ لوارث " یعنی کسی وارث کے لیے وصیت کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے ۔
[ جامع الترمذی أبواب الوصایا باب ما جاء
لا وصیۃ لوارث (۲۱۲۰)]
اورصورت مسؤلہ میں میت کے ورثاء میں سے میں صرف اور صرف اسکے بھتیجے اور بہن کا ذکر کیا گیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا
ہے کہ اسکے ورثاء میں اسکی بہن اور بھتیجا ہی ہیں
کیونکہ نبی کریم صلى اللہ علیہ
وسلم کا فرمان ہے : أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا
بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ
[ صحیح البخاری کتاب الفرائض
باب میراث الولد من أبیہ وأمہ (۶۷۳۲)]
ترجمہ : جن لوگوں کے حصہ کتاب اللہ میں
مقرر ہیں انہیں انکے مقررہ حصہ کے مطابق دے دو اور جو باقی بچ جائے وہ میت کے
قریبی ترین مرد کے لیے ہے ۔
اور میت کے قریبی ترین مرد میت کے بیٹے اورپھر ان بیٹوں کی اولاد نرینہ , پھر
میت کا باپ , داد , پردادا , اوپر تک ,
پھر میت کا بھائی اورپھر بھائیوں کی اولاد نرینہ , پھر میت کے چچا اور پھر انکی
اولاد نرینہ ہوتے ہیں ۔ لہذا اگر میت کا کوئی بھائی زندہ نہیں ہے تو میت کا بھتیجا
اسکا وارث بنتا ہے ۔ لہذا وصیت ساری ہی باطل ہو جائے گی اور میت کی بہن کو میت کے
ترکہ میں سے آدھا حصہ دیا جائے گا اور پھر باقی ماندہ آدھا مال میت کے بھتیجے کو عصبہ ہونے کی بناء پر
ملے گا ۔
۴) معلوم نہیں ۔
هذا
والله تعالى أعلم وعلمه أكمل وأتم ورد
العلم إليه أسلم والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق